ایران کے تازہ حملوں پر اسرائیل کی خامنہ ای کو شہید کرنے کی دھمکی، قوم خوف نہ کھائے، سپریم لیڈر کا پیغام
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور جاری ہے۔ ایران نے اسرائیل کے حساس فوجی مراکز پر بیلسٹک میزائلوں سے بھرپور تازہ حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 126 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر براہ راست اسپتال پر حملے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کے تازہ و کاری ترین حملے پر اسرائیل بلبلا اٹھا ہے، اور خامنہ ای کو شہید کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ جبکہ جواب میں ایرانی سپریم لیڈر نے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ دشمن پر ہیبت طاری رکھیں اور خوف نہ کھائیں۔
ایرانی خبررساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق یہ حملے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت کیے گئے۔ نشانہ بننے والے اہم مقامات میں اسرائیلی فوج کا کمانڈ اینڈ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر، بیئر شیبع کے علاقے میں واقع گیو یام ٹیکنالوجی پارک کی فوجی انٹیلی جنس تنصیب اور سوروکا اسپتال کے قریب واقع کیمپ شامل تھے۔
https://x.com/Currentreport1/status/1935568127766737301?t=GwF8J-HFcWfX3MqmA9maMQ&s=19
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ میزائل حملے مکمل انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھے اور صرف فوجی تنصیبات کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ سوروکا میڈیکل سینٹر کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم اس کے قریب فوجی تنصیبات پر حملے کے سبب اسپتال کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی مسلح افواج (آئی ڈی ایف) نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی حملے میں استعمال کیے گئے بعض میزائلوں میں کلسٹر وار ہیڈز نصب تھے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق حملے کے بعد مرکزی اسرائیل میں مختلف مقامات پر چھوٹے گولہ بارود کے ٹکڑے ملے ہیں، جو ممکنہ طور پر ایم آئی آر وی بیلسٹک میزائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ میزائل ایک ہی وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں 126 افراد زخمی ہوئے، جن میں کم از کم 6 کی حالت تشویشناک ہے۔ بیئر شیبع میں سڑک پر میزائل کا ایک ٹکڑا ایک کار سے ٹکرا گیا، جس سے ایک شہری زخمی ہوا۔
اسرائیلی ریسکیو سروس ’میگن ڈیوڈ آڈوم‘ کے مطابق بعض علاقوں میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی۔
روسی میڈیا ادارے ’آر ٹی‘ کے مطابق ایرانی میزائل حملے کے بعد تل ابیب اسٹاک ایکسچینج سمیت کئی عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں سوروکا اسپتال، اسٹاک مارکیٹ اور دیگر عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کو دکھایا گیا ہے۔
ایران کے اسرائیل پر تازہ اور کاری حملے پر اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے اور اس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کی براہ راست دھکمی دے دی ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’ختم کرنا‘ ملک کے جنگی مقاصد میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ تازہ حملے میں ایرانی میزائلوں نے وسطی اور جنوبی اسرائیل کے 4 مقامات بشمول سوروکا اسپتال کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے ایران کے اراک ہیوی واٹر ری ایکٹر پر حملہ کیا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایران کے سپریم لیڈر کو براہ راست دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مزید (زندہ) نہیں رہ سکتے۔ کاٹز کے یہ تبصرہ ایرانی میزائل حملے پر اسرائیل میں غم و غصے کے بعد سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ آج صبح ایران کے حکمرانوں نے ہمارے سوروکا اسپتال اور شہری علاقوں پر میزائل برسائے، ہم ان مظالم کا پورا حساب لیں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے موجودہ کشیدہ حالات کے پیش نظر ایرانی قوم کو خوف سے باہر نکلنے اور دشمن کے خلاف طاقت اور اتحاد سے ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے یہ پیغام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں دیا، جس میں انہوں نے دشمن کو خبردار کیاکہ ایرانی قوم اگر متحد رہی تو کوئی طاقت اسے مرعوب نہیں کر سکتی۔
https://x.com/khamenei_ir/status/1935662104192937992?t=f7lWnkYxH38w0AgD09C-KA&s=19
خامنہ ای نے کہاکہ میرے عزیز ایرانیو! اگر تم تھوڑا سا بھی خوف کا شکار ہوئے، تو دشمن تمہیں مزید ڈرائے گا اور تمہیں نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ دشمن کے خلاف جس جذبے اور اتحاد کے ساتھ اب تک کھڑی رہی ہے، اسے پوری طاقت اور استقامت سے جاری رکھے۔
سپریم لیڈر نے اپنے بیان میں قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ بھی شیئر کیا جس کا ترجمہ ہے: ’فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے، جو غالب اور حکمت والا ہے۔‘
https://x.com/khamenei_ir/status/1935664827466211541?t=eKGyfsH1bT1WXfkgZ25hkA&s=19
اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے اور وہ ایران کو عظیم فتح سے ضرور نوازے گا، کیونکہ ہم سچ پر ہیں، حق پر ہیں، اور ظالم کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
خامنہ ای نے مزید کہاکہ اسرائیل کی جانب سے امریکا سے مدد مانگنا اس کی کمزوری اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ صہیونی حکومت کے امریکی اتحادی اب منظر عام پر آ چکے ہیں اور وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں جو اسرائیل کی عسکری و سیاسی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ صہیونی حکومت کے امریکی دوست ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جو خود اس جعلی ریاست کی ناتوانی اور کمزوری کو عیاں کر رہی ہیں۔
خامنہ ای کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری یہ کشیدگی بین الاقوامی برادری میں سنگین خطرات کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر جب دونوں ممالک کے بیچ براہ راست عسکری حملے ہونے لگے ہیں۔
اس صورتحال میں ایران کے حلیف یمنی حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ حوثی رہنما مہدی المشاط نے کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، وہ مزاحمت جاری رکھیں گے۔
حوثی باغیوں نے ماضی میں بھی اسرائیل پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل داغے اور بحری جہازوں پر حملے کیے ہیں۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایرانی فوج نے جو میزائل استعمال کیے، ان میں ’سجیل 2‘ نامی بیلسٹک میزائل خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
https://x.com/Caterin49788702/status/1935489367771881618?t=WMsltQe4jIf90AU0UrY6hA&s=09
دنیا بھر میں اس میزائل کے آسمان پر بننے والے مناظر اور اس کی تباہ کن طاقت پر بحث جاری ہے، جب کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ اسرائیل کا جدید فضائی دفاعی نظام ان میں سے کئی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق، ایران نے اسرائیل پر حملے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے سجیل 2 میزائل کا استعمال کیا، جو 2000 کلومیٹر یا اس سے زائد فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیلی عسکری تجزیہ کار ڈورون کدوش کے مطابق، یہ میزائل جس نے اسرائیل کے ڈین بلاک نامی علاقے کو نشانہ بنایا، وہ نہ صرف اپنے حجم بلکہ اس میں بھرے گئے دھماکا خیز مواد کے اعتبار سے بھی انتہائی طاقتور تھا۔
ان کے بقول ایران نے اس نوعیت کے وزنی میزائل محدود تعداد میں فائر کیے ہیں، جو اس حملے کی شدت اور خاص منصوبہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔
سجیل 2 میزائل دو مرحلوں پر مشتمل ایک بیلسٹک میزائل ہے، جو ٹھوس ایندھن پر کام کرتا ہے۔ یہ خصوصیت اسے روایتی مائع ایندھن والے میزائلوں کے مقابلے میں زیادہ موثر بناتی ہے، کیونکہ اس میں ایندھن بھرنے کا مرحلہ درکار نہیں ہوتا، اس لیے اسے فوری طور پر لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی لانچنگ سپیڈ اور درستگی دوسرے ایرانی میزائلوں کے مقابلے میں بہتر سمجھی جاتی ہے۔
اس میزائل میں 500 سے 650 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے، جو اسے دشمن کے اہداف کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
ایران عام طور پر اپنے مغربی علاقوں سے اسرائیل پر میزائل داغتا ہے، تاہم سجیل 2 کی طویل رینج کی بدولت اسے ملک کے کسی بھی علاقے سے فائر کیا جا سکتا ہے، جو اسے ایک تزویراتی برتری فراہم کرتا ہے۔
ایران نے 1990 کی دہائی کے آخر میں میزائل پروگرام پر باقاعدہ کام شروع کیا تھا، جبکہ سجیل میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ نومبر 2008 میں کیا گیا، جس کے بعد اسے ایرانی ہتھیاروں کے ذخیرے کا ایک اہم حصہ بنا دیا گیا۔
امریکا نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل میں موجود اپنے شہریوں، سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تاحکم ثانی محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔
امریکی سفارت خانے نے اسرائیل اور مغربی کنارے میں موجود تمام امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ بحران کے پیش نظر ایسے تمام ممکنہ اقدامات پر کام کر رہا ہے جن کے ذریعے امریکی شہریوں کے اسرائیل سے محفوظ انخلا میں مدد فراہم کی جا سکے۔
روس نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدہ صورتِ حال پر امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اس تنازع میں مداخلت کرتا ہے تو اس سے نہ صرف جنگ کا دائرہ وسیع ہوگا بلکہ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔
روس کے صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کے روز ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر امریکا نے اس تنازع میں براہ راست مداخلت کی تو یہ نہ صرف اس تنازع کی شدت میں اضافہ کرے گا بلکہ اس کے جغرافیائی دائرے کو بھی وسعت دے گا۔ اور یہ ایک نیا زیادہ خطرناک مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔