ایڈیٹروں کے لیے ضابطہ اخلاق

صحافتی ضابطہ اخلاق (Code of Ethics)
امید نیوز سے وابستہ تمام اراکین، بشمول ایڈیٹوریل اسٹاف، رپورٹرز، فوٹوگرافرز اور بلاگرز، اس ضابطہ اخلاق کے پابند ہوں گے۔ ہمارا مقصد نہ صرف خبر پہنچانا ہے بلکہ معاشرے میں ذمہ دارانہ صحافت کے ذریعے "امید” اور "سچائی” کو فروغ دینا ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق برطانوی پریس کمپلینٹس کمیشن اور عالمی صحافتی معیارات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔
صحت اور درستگی (Accuracy)
حقائق کی جانچ: امید نیوز کسی بھی ایسی معلومات، تصویر یا ویڈیو کو شائع نہیں کرے گا جو غلط، گمراہ کن یا مسخ شدہ ہو۔
فوری تصحیح: اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے فوری طور پر واضح جگہ پر درست کیا جائے گا۔ اگر غلطی سے کسی کی دل آزاری یا نقصان ہوا ہو تو معذرت (Apology) شائع کرنا لازمی ہوگا۔
فرق کی وضاحت: ادارتی مواد میں حقائق، گمان اور تبصرے کے درمیان واضح فرق رکھا جائے گا۔
جواب کا حق (Right to Reply)
اگر کسی فرد یا ادارے کے خلاف کوئی الزام یا منفی خبر شائع ہوتی ہے، تو امید نیوز متاثرہ فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کرنے کا پابند ہے۔
نجی زندگی کا احترام (Privacy)
ہر شخص کی نجی زندگی، خاندان، گھر، صحت اور ڈیجیٹل مواصلات کا احترام کیا جائے گا۔
رضامندی: نجی مقامات پر کسی بھی شخص کی تصویر یا ویڈیو اس کی اجازت کے بغیر بنانا اخلاقی جرم تصور ہوگا۔
استثنیٰ: نجی زندگی میں مداخلت صرف اسی صورت میں جائز ہوگی جب اس میں "عوامی مفاد” (Public Interest) کا کوئی بڑا پہلو نمایاں ہو۔
ہراساں کرنے کی ممانعت (Harassment)
صحافی معلومات کے حصول کے لیے کسی کو ڈرانے، دھمکانے یا مسلسل پیچھا کرنے (Stalking) سے گریز کریں گے۔
اگر کوئی شخص بات کرنے یا تصویر کھنچوانے سے منع کر دے، تو صحافی کو فوری طور پر وہاں سے ہٹ جانا چاہیے۔
صدمہ اور حساس حالات (Grief and Shock)
حادثات یا کسی جانی نقصان کی صورت میں رپورٹنگ کرتے وقت ہمدردانہ رویہ اختیار کیا جائے گا۔
خودکشی کے واقعات میں طریقے یا ذرائع کی تفصیل بیان نہیں کی جائے گی تاکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی نہ ہو۔
بچوں کا تحفظ (Protection of Children)
18 سال سے کم عمر: کسی بھی بچے سے ان کے نجی معاملات پر انٹرویو یا تصویر لینے کے لیے والدین یا سرپرست کی اجازت لازمی ہے۔
اسکول کی سرگرمیاں: اسکول میں بچوں کی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔
جنسی استحصال: جنسی زیادتی کے شکار بچوں کی شناخت کسی صورت ظاہر نہیں کی جائے گی، خواہ قانون اس کی اجازت ہی کیوں نہ دے رہا ہو۔
اسپتال اور طبی ادارے
اسپتالوں کے ممنوعہ یا حساس وارڈز میں داخلے کے لیے انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت اور صحافی کی شناخت کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ مریضوں کی رازداری کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا۔
جرائم کی رپورٹنگ اور امتیاز (Discrimination)
شناخت: کسی بھی ملزم کے عزیز و اقارب کی شناخت تب تک ظاہر نہیں کی جائے گی جب تک وہ خود اس جرم میں مصلح نہ ہوں۔
تعصب کا خاتمہ: مذہب، نسل، رنگ، جنس، زبان یا کسی جسمانی معذوری کی بنیاد پر کسی کے خلاف نفرت انگیز مواد یا تفریق آمیز جملے شائع نہیں کیے جائیں گے۔
مالیاتی صحافت (Financial Journalism)
کوئی بھی صحافی ایسی کاروباری معلومات سے ذاتی مالی فائدہ حاصل نہیں کرے گا جو ابھی تک عام نہیں ہوئی۔
اسٹاک مارکیٹ یا کمپنیوں کے شیئرز کے بارے میں لکھتے وقت مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) سے بچا جائے گا۔
خفیہ ذرائع کا تحفظ (Confidential Sources)
امید نیوز اپنے ان ذرائع کی شناخت کی حفاظت کرنے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتا ہے جو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ادائیگی برائے معلومات (Payment for Stories)
مجرموں یا ان کے ساتھیوں کو خبر یا تصویر کے لیے رقم کی ادائیگی نہیں کی جائے گی، سوائے اس کے کہ وہ انتہائی درجے کا عوامی مفاد ہو۔
عدالتی گواہان کو رقم کی پیشکش نہیں کی جائے گی تاکہ انصاف کے عمل پر اثر نہ پڑے۔
عوامی مفاد (Public Interest) کیا ہے؟
امید نیوز کے نزدیک عوامی مفاد سے مراد درج ذیل امور ہیں:
کسی سنگین جرم یا بدعنوانی کو بے نقاب کرنا۔
عوامی صحت، سلامتی اور ماحول کا تحفظ۔
عوام کو کسی ایسے عمل سے بچانا جس سے وہ گمراہ ہو رہے ہوں۔
آزادیِ اظہارِ رائے کا تحفظ۔
نوٹ: ایڈیٹرز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ "عوامی مفاد” کا لبادہ اوڑھ کر کسی کی نجی زندگی کو بلاوجہ نشانہ نہ بنایا جائے۔ 16 سال سے کم عمر بچوں کا مفاد، ہر قسم کے عوامی مفاد پر مقدم رہے گا۔
رابطہ برائے شکایات:
اگر آپ کو محسوس ہو کہ ہماری کسی خبر میں اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تو براہِ کرم ہمارے ایڈیٹوریل بورڈ سے [اinfo@umeednews.com یا 00923337898559 ] پر رابطہ کریں۔ ہم آپ کی شکایت کا 24 گھنٹوں کے اندر جائزہ لینے کے پابند ہیں۔