ٹرمپ کا پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی طور پر روکنے کا اعلان؛ ناکہ بندی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کی ’بڑی پیش رفت‘ کا حوالہ؛ ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان، بحری جہازوں کی نقل و حرکت روکنے کے باوجود دباؤ قائم رکھنے کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک کی درخواست پر آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ’پروجیکٹ فریڈم‘ آپریشن کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی مہم کی ’شان دار کامیابی‘ اور تہران کے نمائندوں کے ساتھ حتمی معاہدے کی ’بڑی پیش رفت‘ کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ العمل رہے گی۔
ٹرمپ نے لکھا: ”پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر، ایران کے خلاف ہماری شان دار فوجی کامیابی کے بعد، اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے، ہم نے باہمی طور پر اتفاق کیا ہے کہ جبکہ ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ رہے گی، پروجیکٹ فریڈم (یعنی آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت) کو مختصر مدت کے لیے روک دیا جائے گا تاکہ دیکھا جا سکے کہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرتا ہے اور اس پر دستخط ہوتے ہیں یا نہیں۔“
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ’پروجیکٹ فریڈم‘ صرف دو دن پہلے ہی شروع کیا گیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اس آپریشن کو دفاعی نوعیت کا، محدود دائرہ کار اور عارضی قرار دیا تھا، جس کا مقصد ایران کی جانب سے بند کیے گئے آبنائے ہرمز سے ہزاروں تجاری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا۔ اس آپریشن کے تحت امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور 15 ہزار سے زائد اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ تاہم، صدر ٹرمپ کے تازہ اعلان نے اسے فوری طور پر معطل کر دیا۔
پس منظر اور تنازع کی جڑیں آبنائے ہرمز دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد نقل و حرکت کا اہم راستہ ہے۔ فروری 2026 میں امریکی اور اسرائیلی حملوں (آپریشن ایپک فیوری) کے بعد ایران نے اسے کان کنی کر کے بند کر دیا تھا اور ٹولز عائد کر دیے تھے۔ نتیجتاً عالمی تیل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں اور برینٹ کروڈ 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ امریکی ناکہ بندی نے ایرانی تجارت کو 90 فیصد تک کم کر دیا، جبکہ ایران نے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
پاکستان نے اس بحران میں کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ سے رابطے کر کے جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی تھی۔ پاکستانی قیادت نے ایران کو بھی آبنائے کھولنے کی ترغیب دی تھی تاکہ سفارت کاری کو موقع ملے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہیں، کیونکہ کراچی پورٹ اور گوادر سمیت پاکستانی تجارت بھی اس راستے سے متاثر ہوتی ہے۔
پروجیکٹ فریڈم کی مختصر تاریخ صدر ٹرمپ نے اتوار کو ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ’بے گناہ تجاری جہازوں کو ایرانی جارحیت سے بچانا‘ تھا۔ پیر کے روز امریکی بحریہ نے کئی جہازوں کو رہنمائی فراہم کی اور ایرانی تیز رفتار کشتیوں پر حملے کیے۔ تاہم، ایران نے ان دعوؤں کو ’جھوٹ‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکی اور اسرائیلی ڈسٹرائرز کو داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے ’پروجیکٹ ڈیڈ لاک‘ قرار دیا اور کہا کہ سیاسی بحران کا فوجی حل نہیں ہو سکتا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹرمپ کے تازہ اعلان کو ’امریکی پسپائی‘ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن ناکامی کا شکار ہوا۔ دوسری طرف، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آپریشن کے آغاز پر کہا تھا کہ یہ ’بحریہ کے عملے کو بچانے‘ کا مشن ہے جو ایران نے ’موت کے حوالے‘ کر دیا تھا۔
عالمی اثرات اور ردعمل اس اعلان کے فوری بعد عالمی مارکیٹس میں ہلچل مچی۔ تیل کی قیمتیں قدرے کم ہوئیں، مگر ناکہ بندی کے جاری رہنے کی وجہ سے عدم استحکام برقرار ہے۔ متحدہ عرب امارات نے آبنائے میں اپنے ٹینکروں پر حملوں کی مذمت کی اور جواب دینے کا حق محفوظ رکھا۔ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ سعودی عرب نے ایران سے ’اچھی ہمسائیگی‘ کا مطالبہ کیا۔
ماہر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ وقفہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل مدتی امن معاہدے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ آسٹریلیائی نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر جان بلیک لینڈ کے مطابق، اگر معاہدہ ہو گیا تو آبنائے ہرمز کھل جائے گا، ورنہ تناؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، بعض تجزیہ کار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ وقفہ ایران کو مزید وقت دے کر اسے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ماہرین اسے سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں سرکاری ذرائع نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا ضامن بننے کے لیے مصروف عمل ہے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
آئندہ کے امکانات صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو پروجیکٹ فریڈم دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ اس دوران ناکہ بندی جاری رہے گی، جو ایران پر دباؤ برقرار رکھے گی۔ ایران نے اب تک کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا، مگر سرکاری میڈیا اسے ’فتح‘ بنا کر پیش کر رہا ہے۔
عالمی معیشت کے لیے یہ وقفہ اہم ہے۔ لاکھوں ٹن تیل اور سامان آبنائے میں پھنسا ہوا ہے، جس سے یورپ، ایشیا اور امریکا کی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو عالمی معاشی سست روی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
یہ واقعہ نہ صرف امریکا-ایران تنازع بلکہ پاکستان کی ثالثی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اسلام آباد میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔