تیار ہو جائیں! اگلے 24 گھنٹے میں وفاقی دارالحکومت اور بالائی علاقوں میں بادل برسیں گے

Weather

ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کی نوید، میدانی علاقوں میں گرمی کی لہر برقرار: جیوانی 46 ڈگری کے ساتھ گرم ترین مقام

اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے، جس سے حبس اور گرمی کی شدت میں کمی کا امکان ہے۔ تاہم، ملک کے میدانی اور وسطی اضلاع بدستور شدید گرمی اور خشک موسم کی لپیٹ میں رہیں گے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بلوچستان کا ساحلی شہر جیوانی 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ ملک کا گرم ترین علاقہ رہا، جہاں غیر معمولی درجہ حرارت نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔

بارش اور موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال

محکمہ موسمیات (PMD) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مغربی ہواؤں کا ایک کمزور سلسلہ ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع، اسلام آباد اور خطہ پوٹھوہار میں بادل برسنے کے قوی امکانات ہیں۔ اس کے علاوہ، بالائی اور جنوب مشرقی پنجاب کے چند حصوں میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے۔

شمالی علاقہ جات، جن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں، وہاں بھی موسم سرما کی باقیات اور حالیہ مغربی سلسلے کے ملاپ سے بارش اور پہاڑوں پر ہلکی برف باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس بارش سے بالائی علاقوں کے درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جو مقامی آبادی اور سیاحوں کے لیے خوشگوار جھونکا ثابت ہوگی۔

میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت اور خشک موسم

ایک طرف جہاں بالائی علاقے بارش کے منتظر ہیں، وہیں سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لہر (Heatwave) کی زد میں ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ان علاقوں میں فی الحال بارش کا کوئی امکان نہیں اور موسم بدستور گرم اور خشک رہے گا۔

جیوانی میں ریکارڈ کیا گیا 46 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ساحلی پٹی پر سمندری ہواؤں کے رکنے یا رخ تبدیل کرنے سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح سندھ کے تاریخی مقامات اور شہر بھی تپش کی لپیٹ میں ہیں:

  • موہنجو دڑو: 44 ڈگری سینٹی گریڈ

  • لاڑکانہ: 43 ڈگری سینٹی گریڈ

ان علاقوں میں دوپہر کے وقت لو چلنے اور سورج کی براہِ راست تپش کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طبی ماہرین نے ان اضلاع کے مکینوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں تاکہ ہیٹ سٹروک سے بچا جا سکے۔

علاقائی موسمیاتی تفصیلات

1۔ خیبر پختونخوا اور پوٹھوہار: صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور، چترال، سوات، ایبٹ آباد اور گلیات میں شام یا رات کے وقت گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت خطہ پوٹھوہار میں گرد آلود ہوائیں چلنے اور اس کے بعد بادل برسنے کی توقع ہے، جس سے فضائی آلودگی (Smog/Dust) میں بھی کمی آئے گی۔

2۔ پنجاب کی صورتحال: پنجاب کے بالائی اضلاع (مری، گلیات، سیالکوٹ، نارووال) اور جنوب مشرقی حصوں (بہاولپور، حاصل پور) میں تیز ہواؤں کے ساتھ کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ تاہم، وسطی پنجاب بشمول لاہور، فیصل آباد اور ملتان میں سورج سوا نیزے پر رہے گا اور حبس کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔

3۔ بلوچستان اور سندھ: بلوچستان کے بیشتر اضلاع بشمول سبی، نصیر آباد اور مکران کی ساحلی پٹی میں موسم شدید گرم رہے گا۔ سندھ کے میدانی علاقوں میں خشک سالی جیسی صورتحال ہے، جہاں فصلوں کو بھی اضافی پانی کی ضرورت پڑ رہی ہے۔

زرعی اثرات اور احتیاطی تدابیر

موسمیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق بالائی علاقوں میں ہونے والی یہ بارش کھڑی فصلوں اور باغات کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پانی کی کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ تاہم، تیز ہواؤں اور آندھی کے باعث کچے مکانات اور بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی موجود ہے، جس کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

قومی شاہراہوں اور موٹروے پولیس نے بھی بالائی علاقوں کی جانب سفر کرنے والے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارش کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیشِ نظر احتیاط برتیں اور پہاڑی راستوں پر ڈرائیونگ کے دوران رفتار کم رکھیں۔

مستقبل کی پیش گوئی

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ دو روز تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، جس کے بعد ایک بار پھر گرمی کی لہر میں اضافے کا امکان ہے۔ عالمی موسمیاتی اداروں (جیسے AccuWeather اور ویدر چینل) کے ڈیٹا کے مطابق، رواں سال درجہ حرارت میں گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) اور ایل نینو (El Niño) کے اثرات بتائے جا رہے ہیں۔

مجموعی طور پر، ملک اس وقت دو مختلف موسمی کیفیات میں تقسیم نظر آتا ہے؛ ایک طرف بالائی علاقوں کی ٹھنڈک اور بارش کی امید ہے، تو دوسری طرف میدانی علاقوں کی جھلسا دینے والی گرمی۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمی حالات سے باخبر رہیں اور سرکاری سطح پر جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے