بڑا خطرہ
"آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی معیشت کو لاحق بڑا خطرہ”
✍️ تحریر: رشید ملک
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی ممکنہ دھمکی نے ایک بار پھر دنیا کو خطرے کا احساس دلایا ہے۔ دنیا کی سب سے اہم بحری گذرگاہوں میں شامل یہ تنگ راستہ خلیجی ممالک کا تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا واحد ذریعہ ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر ایران اس آبی راستے کو بند کرتا ہے تو نہ صرف خلیجی ریاستیں بلکہ امریکہ، چین، یورپ اور پاکستان جیسے ممالک بھی شدید متاثر ہوں گے۔
عالمی توانائی کا گزرگاہ
روزانہ تقریباً 20 فیصد خام تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو کہ سعودی عرب، عراق، ایران، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر جیسے ممالک سے نکل کر دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اس بندش کی صورت میں تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ متوقع ہے۔
معاشی بحران اور مہنگائی کی لہر
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اس گذرگاہ کو بند کرتا ہے تو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں فی بیرل 150 ڈالر سے بڑھ سکتی ہیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور اقتصادی بدحالی جنم لے سکتی ہے۔ جاپان، جرمنی اور امریکہ جیسے صنعتی ممالک براہ راست متاثر ہوں گے۔
⚠️ علاقائی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کا خطرہ
آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کریں گے تاکہ بحری راستے کو کھلا رکھا جا سکے۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اس مسئلے پر فوری اجلاس بلا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات
پاکستان خلیجی ممالک سے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے، اس لیے ایسی کسی بندش کی صورت میں پاکستان کو بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا ہو گا۔ مہنگائی میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل جنم لیں گے۔ گوادر بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
متبادل ذرائع کی تلاش
دنیا کی بڑی طاقتیں اس ممکنہ بحران کے پیشِ نظر توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں مصروف ہیں۔ وسطی ایشیائی ریاستوں سے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے زمینی راستوں پر کام جاری ہے، مگر یہ وقت طلب اور مہنگے منصوبے ہیں۔
آبنائے ہرمز کوئی معمولی راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ اگر ایران اس راستے کو بند کرتا ہے تو دنیا کو سنگین اقتصادی، سیاسی اور سلامتی سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں صرف سفارت کاری، تحمل اور باہمی بات چیت کے ذریعے ہی اس خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔