کیا ایران جنگ پر امریکہ اور اسرائیل ایک پیج پر ہیں؟ ٹرمپ کے پیغام سے جنم لیتے سوالات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایران اور قطر کی مشترکہ گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے بعد حسبِ معمول سخت الفاظ سے بھرپور بیان جاری کیا ہے۔
اسرائیل نے ایران میں ساؤتھ پارس میں واقع دنیا کی سب سے بڑے قدرتی گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا اور تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر میں ایک انرجی کمپلیکس پر حملہ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ٹرمپ کے غصے میں مزید شدت آ گئی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دھمکی آمیز زبان استعمال کی اور کہا کہ انھیں اسرائیل کے حملے کے منصوبوں کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔
امریکہ کو ’حملے کے بارے میں نہیں معلوم‘ تھا
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’اس مخصوص حملے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔‘
یہ بات حملے کے بعد اسرائیل میں شائع ہونے والی متعدد اخباری رپورٹس سے بالکل متصادم ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت نے رپورٹ کیا کہ اس حملے پر ’پہلے سے ہی امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی تھی اور… وزیرِاعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان اس پر اتفاق ہوا تھا۔‘