مظفرگڑھ: دبستانِ رضا کے زیراہتمام "ایک شام گل رعنا کے نام”

1791742545526

مظفرگڑھ: دبستانِ رضا کے زیراہتمام ’’ایک شام گل رعنا کے نام” اور کتاب کی تقریبِ پذیرائی کا انعقاد، اہلِ قلم و ادب کا جمعِ غفیر، معروف شاعرہ گل رعنا کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین، سرائیکی اجرک کا تحفہ

مظفرگڑھ (خاص رپورٹ – یاسین رضا ٹوانہ / امید نیوز): دبستانِ رضا مظفرگڑھ کے زیرِ اہتمام کمیٹی ہال ضلع کونسل میں ایک پروقار اور یادگار ادبی شام کا انعقاد کیا گیا، جو اردو اور سرائیکی زبان کی معروف شاعرہ محترمہ گل رعنا کے نام رہی۔ اس موقع پر ممتاز نقاد پروفیسر حماد مرانی کی تنقیدی کتاب ’’آٹھ شاعر میری نظر وچ‘‘ کی تقریبِ پذیرائی بھی شاندار انداز میں منائی گئی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز قرآنِ پاک کی تلاوت سے ہوا جس کی سعادت خلیل مرزا نے حاصل کی، جبکہ حسنین رضا نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نوید ستاری نے اپنے مخصوص ادبی انداز میں انجام دیے۔

پروفیسر عمران میر کا مقالہ اور کتاب پر گفتگو
تقریب کے دوران پروفیسر عمران میر نے محترمہ گل رعنا کی شعری خصوصیات، احساس کی لطافت اور طرزِ فکر پر جامع مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے پروفیسر حماد مرانی کی نئی شائع ہونے والی تنقیدی کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے اسے سرائیکی ادب میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا۔ تقریب کے دوران دبستانِ رضا اور بزمِ فرید کی جانب سے محترمہ گل رعنا کو ان کی ادبی و الثقافتی خدمات کے اعتراف میں رواجی سرائیکی اجرک بھی پہنائی گئی۔

محترمہ گل رعنا کا خطاب اور کلام
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ گل رعنا نے دبستانِ رضا مظفرگڑھ اور اہلِ مظفرگڑھ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ محفلیں دل میں اتر جاتی ہیں اور لفظوں کو حوصلہ و احساس کو آواز بخشتی ہیں۔ انہوں نے بزم کے چراغ یونہی روشن رہنے کی دعا کی اور اپنے منتخب اشعار سنا کر حاضرین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔

شرکائے مشاعرہ اور مہمانانِ گرامی
تقریب کی صدارت ملک کے نامور شاعر ملک توقیر عباس ڈونہ نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر پروفیسر دلشاد رانا (ملتان)، محترمہ تانیہ عابدی (ملتان)، پروفیسر عمران میر (کوٹ ادو)، سلیم نتکانی (مظفرگڑھ) اور ملک منتظر مہدی ڈونہ (اے ڈی ایل جی کوٹ ادو) شامل تھے۔
مشاعرے کے نشست میں خلیل مرزا، حسنین رضا، شہباز شازر، فیاض رنگپوری، شہزاد ملک، فقیر غوث بخش فریدی، اقبال مہروی، واجد چوہان، یاسین رضا ٹوانہ، نوید ستاری، سلیم نتکانی، پروفیسر عمران میر، گل رعنا، تانیہ عابدی اور دلشاد رانا نے اپنا کلام پیش کیا۔
اس کے علاوہ حفیظ اللہ کھاکھی، حاجی نور محمد عابد، اصغر علی، راشد علی، مبشر رضا جگلانی، صغیر نقوی، آصف مجاہد (بیورو چیف روزنامہ پاکستان)، راؤ ساجد وکیل اور چوہدری الیاس نے خصوصیت کے ساتھ شرکت کی۔ چوہدری الیاس نے شعرا پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اپنی ادب دوستی کا مظاہرہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کی تواضع چائے اور لوازمات سے کی گئی۔
صدارتی خطاب
صدرِ محفل ملک توقیر عباس ڈونہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ شاعری صرف لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ احساسات کی سچی ترجمان ہوتی ہے۔ انہوں نے گل رعنا کو ایک باکمال اور حقیقی فنکارہ قرار دیا اور اپنے صدارتی کلام سے محفل کا اختتام کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے