خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل: نام اور پیشہ ورانہ تفصیلات

1791733240488

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: تجربہ کار ماہرین پر مشتمل 11 رکنی صوبائی ایڈوائزی کونسل تشکیل

امید نیوز: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے تناظر میں صوبے کے انتظامی اور حکومتی امور کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے تشکیل دی جانے والی 11 رکنی ایڈوائزی کونسل کے اراکین اور ان کے قلمدانوں کی باضابطہ تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

کفایت اللہ خان 
مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور
سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، سابق چیئرمین فاٹا ٹریبونل اور مختلف ڈویژنز کے کمشنر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ قبائلی امور اور انتظامی امور پر گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔

طارق محمود پاشا

مشیر برائے خزانہ، ریونیو، ایکسائز و ٹیکسیشن
سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، وزیراعظم کے سابق معاونِ خصوصی برائے ریونیو اور سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن رہ چکے ہیں۔

امیر جاوید

مشیر برائے قانون و پارلیمانی امور سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل، سابق ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کے طور پر آئینی و قانونی امور کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر سید امیر عبداللہ

مشیر برائے تعلیم سابق نگران صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت، نیدرلینڈز سے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) سمیت مختلف اداروں میں بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان

 مشیر برائے صحت پاک فوج کی پہلی خاتون تھری سٹار جنرل اور سابق سرجن جنرل ہیں۔ وہ ہسپتالوں کے انتظامی امور، ہنگامی صورتحال (جیسے کورونا وبا کے دوران طبی انتظامات) اور پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کی ڈگری کے ساتھ وسیع پیشہ ورانہ تجربہ رکھتی ہیں۔

ڈاکٹر سرفراز علی شاہ

مشیر برائے معدنیات
معاشیات میں پی ایچ ڈی۔ اس سے قبل نگران دورِ حکومت میں مواصلات، تعمیرات اور منصوبہ بندی و ترقی کے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر محمد ارشاد

مشیر برائے صنعت و تجارت فنانس میں پی ایچ ڈی۔ سابق چیئرمین ایف بی آر (FBR) اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے بورڈ کے رکن رہ چکے ہیں، ٹیکس اصلاحات اور مالیاتی امور کے ماہر ہیں۔

آصف رفیق آفریدی

مشیر برائے مواصلات و تعمیرات، لوکل گورنمنٹ، ہاسنگ و ٹرانسپورٹ۔خیبر پختونخوا کے سابق نگران صوبائی وزیر (زراعت و لائیو سٹاک)، جو کہ ایک تجربه‌کار کاروباری شخصیت اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ ہیں۔

مولانا محمد طیب قریشی

مشیر برائے اوقاف و مذہبی امور خیبر پختونخوا کے چیف خطیب (خطیبِ اعلیٰ)، جامعہ اشرفیہ پشاور کے منتظم اور مسجد مہابت خان کے امام ہیں۔ امتیازی خدمات پر تمغہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔

عثمان سیف اللہ خان

مشیر برائے توانائی، بجلی، منصوبہ بندی و ترقی سابق سینیٹر، غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ (GIKI) کے بورڈ آف گورنرز کے رکن، پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے بورڈ آف مینجمنٹ اور اپٹما (APTMA) کے سابق چیئرمین رہ چکے ہیں۔

ثمر ہارون بلور

مشیر برائے اطلاعات و نشریات رکن قومی اسمبلی، خیبر پختونخوا اسمبلی کی سابق رکن اور صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی سابق چیئرپرسن کے طور پر پارلیمانی امور کا تجربہ رکھتی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے