گاندھی کے بیٹے کا قبولِ اسلام اور خاندانی اختلافات
ئانگلینڈ اسکالرشپ کا تنازع، ‘ہری جن’ میں گاندھی کا بیان اور 1936 کے واقعے کی مستند تاریخی حقیقت
امید نیوز :مہاتما گاندھی کی عوامی اور سیاسی جدوجہد کے برعکس، ان کی خاندانی زندگی اور بالخصوص ان کے سب سے بڑے بیٹے ہری لال گاندھی (پیدائش 1888 – وفات 1948) کی داستانِ حیات تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور پیچیدہ باب ہے۔ معتبر تاریخی دستاویزات، گاندھی جی کی اپنی تحریروں اور عالمی سوانح عمریوں سے تصدیق شدہ حقائق کے مطابق، ہری لال کا 29 مئی 1936 کو 48 برس کی عمر میں بمبئی کی جامع مسجد میں اسلام قبول کرنا اور اپنا نام عبداللہ گاندھی رکھنا والد کے سخت اصولوں اور خاندانی محرومیوں کا حتمی ردِعمل تھا۔
امید نیوز کی تحقیق کے مطابق، ہری لال ایک وقت میں اپنے والد کے ساتھ جنوبی افریقہ کی تحریک میں متحرک رہے اور 6 بار جیل گئے جہاں انہیں "چھوٹا گاندھی” کہا گیا۔ تاہم دونوں کے تعلقات میں دراڑ اس وقت پڑی جب گاندھی جی نے برطانیہ سے ملنے والا قانونی تعلیم کا اسکالرشپ بیٹے کے بجائے ایک اور ہندوستانی طالب علم کو دے دیا۔ اس فیصلے سے بددل ہو کر ہری لال نے 1911 میں خاندانی تعلقات منقطع کر لیے۔ بعد ازاں 1918 میں اہلیہ گلاب گاندھی کی وفات، کاروبار میں مسلسل ناکامیوں، شراب نوشی اور شدید قرضوں نے انہیں شدید نفسیاتی بحران میں مبتلا کر دیا۔
29 مئی 1936 قبولِ اسلام کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے جریدے ‘ہری جن’ میں موقف اختیار کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ان کے بیٹے نے دل سے اسلام قبول کیا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ وہ تمام مذاہب کو سچا مانتے ہیں، تاہم انہیں اندیشہ تھا کہ یہ قدم معاشی مفادات یا والد سے بغاوت کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ گاندھی جی نے ایک موقع پر یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ہری لال ان کی زندگی کی سب سے بڑی ناکامی ہیں۔ اس واقعے پر ان کی والدہ کستوربا گاندھی نے بھی شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بیٹے اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو خطوط لکھے۔
امید نیوز کی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ تبدیلی زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکی۔ خاندانی اپیلوں کے بعد، نومبر 1936 میں انہوں نے آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر لیا۔ یہ تمام تاریخی پس منظر مختلف کتابوں اور معروف فلم ‘گاندھی مائی فادر’ میں بھی محفوظ ہے۔ اپنے والد کے قتل کے چند ماہ بعد، 18 جون 1948 کو بمبئی کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔