ملتان میں بڑی اجتماعی شادی: ایک ہی گھر سے 9 باراتیں روانہ، سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی

9-cousins-marriage

ملتان: شجاع آباد میں ایک ہی خاندان کے 9 نوجوانوں کی اجتماعی شادی، ‘جہیز کو خیرباد’ کہہ کر سادگی کی نئی مثال قائم کر دی

ملتان (نیوز ڈیسک): جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے نواحی علاقے شجاع آباد میں ایک ہی خاندان کے نو نوجوانوں نے اجتماعی شادی کر کے معاشرے میں سادگی، اتحاد اور فرسودہ رسومات کے خاتمے کا ایک نیا اور ولولہ انگیز پیغام دیا ہے۔ اس انوکھی تقریب کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں، جہاں صارفین ان نوجوانوں کے اس اقدام کو ‘مثالی’ قرار دے رہے ہیں۔

خاندانی ذرائع کے مطابق، ان نو دلہوں نے نہ صرف ایک ہی روز اور ایک ہی پنڈال میں اپنی کزنز کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا، بلکہ دورِ حاضر کی سب سے بڑی سماجی برائی ‘جہیز’ لینے سے بھی مکمل طور پر انکار کر کے ایک جرات مندانہ مثال قائم کی ہے۔

خاندانی اتحاد کی خوبصورت تصویر: ایک ہی تقریب، ایک ہی ولیمہ

شجاع آباد کی اس شادی کی خاص بات یہ تھی کہ نو مختلف خاندانوں کے بجائے ایک ہی بڑے خاندان نے مل کر اس تقریب کا انعقاد کیا۔ نو باراتیں ایک ساتھ نکلیں اور نکاح کی تقریب بھی ایک ہی جگہ منعقد کی گئی۔ اس اجتماعی شادی کے بعد ولیمہ کی تقریب بھی مشترکہ رکھی گئی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوئی بلکہ لاکھوں روپے کے وہ اخراجات بھی بچ گئے جو الگ الگ تقریبات کی صورت میں ضائع ہو جاتے ہیں۔

اس موقع پر موجود بزرگوں کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد کوئی عالمی ریکارڈ قائم کرنا نہیں تھا، بلکہ نئی نسل کو یہ پیغام دینا تھا کہ شادی جیسے مقدس فریضے کو نمود و نمائش کے بجائے سادگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

جہیز سے انکار: معاشرتی اصلاح کی جانب قدم

معاشرے میں جہاں آج کل شادیوں پر کروڑوں روپے لٹائے جاتے ہیں اور جہیز کی مانگ کی وجہ سے کئی بیٹیاں گھر بیٹھی بوڑھی ہو جاتی ہیں، وہیں شجاع آباد کے ان نو نوجوانوں نے ‘جہیز نہ لینے’ کا عہد کر کے ایک بڑی سماجی تبدیلی کی بنیاد رکھی ہے۔ دلہوں کا موقف تھا کہ وہ اپنی شریک حیات کو عزت اور وقار کے ساتھ اپنے گھر لانا چاہتے ہیں، نہ کہ ان کے والدین پر مالی بوجھ ڈال کر۔

سماجی ماہرین اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس طرح کی مثالیں ہر سطح پر عام ہو جائیں تو متوسط اور غریب طبقے کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنا بوجھ نہیں رہے گا۔

سوشل میڈیا پر دھوم اور عوامی ردعمل

جیسے ہی اس تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہوئیں، دیکھتے ہی دیکھتے یہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز (فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس) پر ٹرینڈ کرنے لگیں۔ ہزاروں صارفین نے ان نوجوانوں اور ان کے خاندان کو مبارکباد دی اور اسے ‘اصلی پنجاب کی اصل روایت’ قرار دیا۔

کئی صارفین نے کمنٹس میں لکھا کہ "یہ شادی ان لوگوں کے لیے تازیانہ ہے جو نمود و نمائش کے لیے بینکوں سے قرضے لیتے ہیں”۔ بعض نے اسے ‘کفایت شعاری مہم’ کا بہترین نمونہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسی حوصلہ افزا روایات کو سرکاری سطح پر بھی سراہا جانا چاہیے۔

شجاع آباد کی ثقافت اور مہمان نوازی

تقریب میں شریک مہمانوں کے لیے سادہ مگر پروقار ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ملتان اور اس کے مضافات اپنی مہمان نوازی اور خاندانی رشتوں کی مضبوطی کے لیے مشہور ہیں، اور اس اجتماعی شادی نے ان روایات کو مزید جلا بخشی ہے۔ تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور نو جوڑوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ملتان کی اس اجتماعی شادی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور خاندان میں اتحاد ہو تو بڑی سے بڑی مشکل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔ یہ نو نوجوان اب صرف ایک ہی خاندان کے دولہے نہیں رہے بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بن گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے