اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے عمران خان یا شہباز شریف سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا

Italian PM Giorgia Meloni

فیکٹ چیک: کیا اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے شہباز شریف کو ‘سپر پاور’ بنانے والا لیڈر قرار دیا؟ سچ سامنے آگیا

پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں سوشل میڈیا جہاں معلومات کا تیز ترین ذریعہ ہے، وہاں حالیہ دنوں میں غلط معلومات اور ‘ڈیپ فیک’ یا سیاق و سباق سے ہٹ کر ویڈیوز کے پھیلاؤ میں بھی تیزی آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک ایسی ہی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی غیر معمولی تعریف کی ہے۔ تاہم، ہماری تحقیقات میں یہ دعویٰ مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔

وائرل ہونے والا دعویٰ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر)، فیس بک اور انسٹاگرام پر ایک مختصر ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے جس میں اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کو پریس کانفرنس یا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ اردو کیپشن میں یہ لکھا گیا ہے:

"میں نہیں جانتی عمران خان کون ہے؟ لیکن اتنا کہوں گی شہباز شریف جیسے قابل آدمی کو اگر دس سال پہلے وزیراعظم بنایا ہوتا تو یقیناً پاکستان اب تک سپر پاور ہوتا۔”

اس پوسٹ کو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں مرتبہ دیکھا گیا، ہزاروں لائکس ملے اور اسے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے حامیوں کے درمیان ایک نئی بحث کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر اسے ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔

جیو فیکٹ چیک کی تحقیقات: اصل حقیقت کیا ہے؟

جب اس وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے ‘ریورس امیج سرچ’ اور تکنیکی ذرائع کا استعمال کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کا پاکستان کی سیاست یا کسی بھی پاکستانی لیڈر سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

1. ویڈیو کا اصل ماخذ

تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ ویڈیو 14 اپریل 2026 کی ہے، جب جارجیا میلونی اٹلی کے شہر ویرونا (Verona) میں ایک تجارتی میلے (Fair) کے دورے پر تھیں۔ وہاں میڈیا کے نمائندوں نے ان سے بین الاقوامی امور پر سوالات کیے تھے۔

2. گفتگو کا موضوع: ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو

اطالوی زبان میں موجود اصل آڈیو کا جب ترجمہ کیا گیا، تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ وزیراعظم جارجیا میلونی ایک صحافی کے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ صحافی نے ان سے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان پر تبصرہ مانگا تھا جو انہوں نے پوپ لیو (Pope Leo XIV) کے خلاف دیا تھا۔

یاد رہے کہ 12 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر پوپ کو "کمزور” قرار دیا تھا، جس پر اٹلی میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ جارجیا میلونی اسی تنقید کا جواب دے رہی تھیں اور ان کی پوری گفتگو مذہب، عالمی سیاست اور امریکی بیانات کے گرد گھوم رہی تھی۔

3. زبان کا غلط استعمال اور جعلی سب ٹائٹلز

وائرل ویڈیو میں یا تو آڈیو کو حذف کر دیا گیا ہے یا پھر ناظرین کو دھوکہ دینے کے لیے نیچے ایسے سب ٹائٹلز (اردو ترجمہ) لکھے گئے ہیں جن کا اصل گفتگو سے کوئی تعلق نہیں۔ میلونی نے پوری گفتگو میں نہ تو ‘عمران خان’ کا نام لیا اور نہ ہی ‘شہباز شریف’ یا ‘پاکستان’ کا تذکرہ کیا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹس

اس میڈیا ٹاک کا ایک حصہ معروف جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو (DW) نے بھی رپورٹ کیا تھا، جس میں واضح طور پر ان کے جواب کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے تعلقات کے تناظر میں دکھایا گیا تھا۔ کسی بھی معتبر بین الاقوامی یا اطالوی نیوز ایجنسی نے ایسی کوئی خبر نشر نہیں کی جس میں جارجیا میلونی نے پاکستانی قیادت کے بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہو۔

پاکستان میں فیک نیوز کا بڑھتا ہوا رجحان

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی عالمی لیڈر کی ویڈیو کو پاکستانی سیاست کے لیے استعمال کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر عالمی رہنماؤں کی ویڈیوز کے ساتھ جعلی سب ٹائٹلز لگا کر پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کے لیے ہدایات:

  • کسی بھی سنسنی خیز ویڈیو پر یقین کرنے سے پہلے اس کے پس منظر کی جانچ کریں۔

  • معتبر نیوز ویب سائٹس (جیسے جیو نیوز، بی بی سی، یا رائٹرز) پر اس خبر کی تصدیق کریں۔

  • اگر کسی غیر ملکی زبان کی ویڈیو ہو، تو اس کے اصل ترجمے کی تلاش کریں۔

حتمی فیصلہ (Verdict)

دعویٰ: جارجیا میلونی نے شہباز شریف کو قابل اور پاکستان کو سپر پاور بنانے والا لیڈر قرار دیا۔ حقیقت: یہ دعویٰ سراسری غلط اور جھوٹا ہے۔ ویڈیو اطالوی وزیراعظم کی ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ لیو سے متعلق گفتگو کی ہے، جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا ہے۔

نتیجہ: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیو ‘ڈیجیٹل جعل سازی’ کی ایک بدترین مثال ہے جس کا مقصد سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے