ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر عالمی خاموشی، جاپان نے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو "کھلا اور محفوظ” رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجیں، لیکن اب تک کسی ملک نے کوئی حتمی وعدہ یا commitment نہیں کیا۔
جاپان نے واضح طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنے کا threshold "extremely high” ہے اور وہ صرف ٹرمپ کی درخواست پر نہیں بلکہ اپنے قومی مفاد اور قوانین کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ جاپانی حکام نے اسے انکار جیسا موقف اختیار کرتے ہوئے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی ہے۔
فرانس نے بھی جہاز نہ بھیجنے کا اشارہ کیا ہے جبکہ برطانیہ اور دیگر ممالک صرف "بات چیت جاری ہے” کہہ کر احتیاط برت رہے ہیں۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی جب ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی اور اسرائیلی مفادات والے جہازوں کے لیے رکاوٹیں پیدا کر رکھی ہیں، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "کسی نہ کسی طرح” یہ گزرگاہ کھلا کر دی جائے گی
بلومبرگ کے مطابق ’ایران عسکری طور پر امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کمزور ہے۔ اس لیے وہ ایندھن کی سپلائی میں خلل ڈالنے اور تیل اور گیس کی مارکیٹ کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ جہاز رانی اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ایران کو امید ہے کہ اس سے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنازع ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔‘
دریں اثنا، صدر ٹرمپ کو اندرون ملک تنقید کا سامنا ہے۔ پیٹرول پمپس پر ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو عالمی معیشت کو خاصا نقصان پہنچے گا۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش سے متاثر ہونے والے ممالک اس راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے میں امریکہ کا ساتھ دیں گے۔