مظفرگڑھ کی ترقی میرا مشن، وزیراعلیٰ مریم نواز کا ویژن ہے” – اجمل چانڈیہ
مظفرگڑھ: پارلیمانی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن و ممبر صوبائی اسمبلی اجمل خان کی پہلے مالی سال کی کارکردگی کے حوالے سے پریس بریفنگ
امید نیوز – میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے اجمل خان چانڈیہ کا کہنا تھا مظفرگڑھ کا شمار ہمیشہ پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے۔ اپنے انتخابی منشور میں حلقہ کے لوگوں سے وعدے کیے تھے۔ اقتدار میں آتے بطور امانت مظفرگڑھ کی پسماندگی کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سامنے پیش کیا۔ مظفرگڑھ کی محرومیوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑا۔ اپنی لیڈر مریم نواز شریف کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری تجاویز پر مظفرگڑھ کیلئے بہت سے پراجیکٹس کا اعلان کیا۔
ساؤتھ پنجاب کے سب پہلے سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز مظفرگڑھ سے ہوا۔ سیف سٹی پراجیکٹ سیف سٹی سے مظفرگڑھ میں جرائم کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، سیف سٹی سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چلان ہونگے، سیف سٹی اتھارٹی کے تحت پینک بٹن کی تنصیب کا عمل تیزی سے جاری ہے، سیف سٹی اتھارٹی کے تحت ویمن سیفٹی ایپ، سیف سٹی ورچوئل بلڈ بینک، ورچوئل سنٹر فار چائلڈ سیفٹی، ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن ایپس متعارف کرائی جارہی ہیں ان ایپس کے استعمال کیلئے مظفرگڑھ کے مختلف پوائنٹس پر فری وائی فائی کی سہولیات دی جارہی ہیں۔
مظفرگڑھ میں ماڈل بازار وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مظفرگڑھ کے لوگوں کیلئے تحفہ ہے۔ ماڈل بازار کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ ماڈل بازار اہلیانِ مظفرگڑھ کو ایک چھت تلے روز مرہ استعمال کی معیاری اور کنٹرول ریٹ پراشیاء مہیا کرے گا۔
فیصل اسٹیڈیم مظفرگڑھ کی تعمیرِ نو جاری ہے۔ فیصل اسٹیڈیم مظفرگڑھ میں کرکٹ اور فٹبال کے گراؤنڈ الگ الگ بنائے جارہے ہیں۔ معیاری گھاس اور نئی کرکٹ پچ بنائی جارہی ہے۔ گراؤنڈ کے گھاس کو سر سبز رکھنے اور لیول کو برقرار رکھنے کیلئے جدید طرز کی واٹر گنز نصب کی گئی ہیں۔ مظفرگڑھ میں بہت زیادہ کمی محسوس کی جارہی تھی بچوں کے الگ پارک کی۔ فیصل اسٹیڈیم میں چائلڈ پلے ایریا کا کام تکمیل کے قریب ہے جس میں بچوں کیلئے مختلف قسم کے جھولے لگائے گئے ہیں۔
آٹزم سکول کی تعمیر مکمل ہونیوالی ہے۔ آٹزم سکول میں سپیشل بچوں کیلئے تربیت یافتہ سٹاف کی مدد سے جدید تعلیم مہیا کی جائے گی۔ غیر سرکاری طور پر آٹزم کا شکار بچوں کو تعلیم بہت مہنگی ہوتی ہے مظفرگڑھ میں آٹزم کے شکار بچوں کیلئے یہ پہلا ادارہ ہوگا جو مفت تعلیم کے ساتھ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت بھی مہیا کرے گا۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں بیڈز کی تعداد کو 30 سے بڑھا کر 70 کردیا گیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ تعداد بھی ناکافی ہے مستقبل میں بیڈز کی تعداد کو بڑھایا جائے گا۔
مظفرگڑھ میں سرکاری ملازمت کے سلسلہ میں آنیوالی خواتین کو رہائش کے مسائل تھے۔ مظفرگڑھ میں جدید طرز کا ورکنگ ویمن ہاسٹل بنایا جارہا ہے جو کہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا بطور خاتون ورکنگ ویمن کیلئے تحفہ ہے۔
مظفرگڑھ ملتان روڈ عرصہ 11 سال سے تاخیر کا شکار تھا اور آثارِ قدیمہ کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میری درخواست پر ابتدائی دنوں میں روڈ کو مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس روڈ کے مکمل ہونے سے مظفرگڑھ شہر کے اندر کی ٹریفک روانی بحال ہوئی اور تاجروں کے روزگار جو 11 سال سے متاثر تھا وہ بھی بحال ہوا۔ اس روڈ کے مکمل ہونے سے اس روڈ کی خوبصورتی بحال ہوئی۔
مظفرگڑھ شہر کے دوسرے بڑے گراؤنڈ سپورٹس گراؤنڈ کی بھی تعمیر نو شروع ہو چکی ہے سپورٹس گراؤنڈ میں نئی گھاس اور نئی کرکٹ بنائی جا رہی ہے۔ سپورٹس گراؤنڈ میں جدید واٹر گنز نصب کی جائیں گی اور کھلاڑیوں کے بیٹھنے کیلئے پویلین اور پریکٹس پچیں بھی بھی بنائی جا رہی ہیں۔
مظفرگڑھ تا جوانہ بنگلہ روڈ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا رنگ پور کی عوام کو تحفہ ہے۔ اس روڈ کی تعمیر و بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس روڈ کو مختلف سیکشنز میں بنایا جا رہا ہے۔ مظفرگڑھ سے خانپور چوک تک نئی کارپیٹنگ کی جا رہی ہے۔ اڈا کھجی والا تا رنگ پور تک روڈ ہمیشہ حادثات کا سبب بنتا تھا روڈ کے اس سیکشن کو جدید طرز پر بنایا جا رہا ہے جس سے حادثات میں بھی کمی ہوگی اور ساتھ سیلاب کے پریشر کو بھی برداشت کرے گا۔
مظفرگڑھ سے محمود کوٹ روڈ کی بھی تعمیر و بحالی جاری ہے۔ تھرمل بائی پاس سے تھرمل تک روڈ مکمل ہو چکا ہے۔ جس میں راستے میں انے والی چڑھائیوں کو ختم کر کے روڈ کا ایک ہی لیول رکھا گیا ہے۔
اندرون شہر کے روڈز جیل روڈ اور گارڈن روڈ بھی مکمل ہو چکے ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال روڈ کی بھی کارپیٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔
ادارہ یو لرن کے اشتراک سے مظفرگڑھ میں مسلسل دوسرے سال ایم ڈی کیٹ کی ڈیجیٹل کلاسز کا بلا معاوضہ اجراء کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال مظفرگڑھ کے بچوں کے ایم ڈی کیٹ میں بہترین رزلٹ آئے تھے۔ جس کے بعد اس پروجیکٹ کو ضلع قصور میں بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ کہ طلباء کے لیے ایک اضافی بس مہیا کی گئی ہے۔ جس سے ایک اضافی روٹ مراد آباد تک شروع کیا گیا ہے۔ اس روڈ سے ملحقہ آبادیوں کے بچوں کو کالج پہنچنے کیلئے دشواریوں کا سامنا تھا۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ کے مین گیٹ کی تزئین و آرائش اور گرلز اور بوائز کالج کے واٹر فلٹریشن پلانٹس کی آر او اپگریڈیشن کی جا رہی ہے۔
لنگر سرائے تا سلطان کالونی روڈ کی بھی تعمیر نو اخری مراحل میں ہے۔ رنگ پور گدارا اڈا روڈ کی تعمیر، رنگ پور سیورج سکیم، ترکی بائی پاس روڈ کی تعمیر بحالی اخری مراحل میں ہے
ہسپتال کی ری ویمپنگ کیلئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے بیشتر وارڈز کی ری ویمپنگ مکمل ہو چکی ہے۔ بی ایچ یو دوآبہ، دستی والا، بھٹہ پور، لنگر سرائے اور چک فرازی کی بھی ریمپنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں ار ایچ سی رنگپور اور ار ایس سی مراد اباد کی ری ویمپنگ ہوگی۔
مظفرگڑھ میں صاف پانی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پی پی 268 کے میں تین نئے واٹر فلٹریشن پلانٹ مکمل ہو چکے ہیں اور لوگوں کو صاف پانی مہیا کررہے ہیں جبکہ چار کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ نئے پلانٹس کو آر او ٹیکنالوجی اور سولر پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ حلقہ کے 13 واٹر فلٹریشن پلانٹس کی پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے تعاون سے آر او اپگریڈیشن کی جا رہی ہے۔ جو کہ جلد مکمل ہوجائیں گے۔
مظفرگڑھ میں سیوریج ایک دیرینہ مسئلہ چلا آرہا ہے۔ جب اقتدار سنبھالا تو ہر محلے میں دو سے تین پوائنٹ ایسے تھے جہاں گلیاں جوہڑ کی شکل اختیار کرچکی تھیں۔ پہلی بار بجٹ میں سیوریج کے مسائل کے حل کے لیے خطیر رقم مختص کی۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کے بعد نئی سیوریج ڈالی گئی جس کی وجہ سے اج سیوریج مسائل پر کسی حد تک قابو پایا جا چکا ہے۔ گلیوں میں سولنگ اور ٹف ٹائل کے کام بھی اخری مراحل میں ہیں۔
یونین کونسلز میں سولنگ اور پلیوں کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی جس کا کام مکمل ہو چکا ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق شہروں کو کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے روڈز کی گرین بیلٹ کو خوبصورت بنایا جا رہا ہے اور لائٹیں لگائی جا رہی ہیں۔ شہر کی سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر تاریخی و ثقافتی دل کش پینٹنگز بنائی جا رہی ہیں۔ اطمینان اس بات کا ہوتا ہے کہ انتخابی منشور میں کیے گئے ہر وعدے کیے تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہوں۔
آئندہ مالی سال کیلئے کئی اہم پراجیکٹس پر پیش رفت جارہی ہے، یونیورسٹی آف مظفرگڑھ مظفرگڑھ کی بقاء کی ضمانت ہے۔ مظفرگڑھ کے ساتھ زیادتی کی گئی 55 لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع کے نوجوانوں کو جدید تعلیم سے محروم رکھا گیا۔ یونیورسٹی آف مظفرگڑھ کیلئے عملی کام جاری ہے۔ مظفرگڑھ کے ہر طبقے کے ساتھ مختلف آپشنز پر غور و خوض جاری ہے۔ مظفرگڑھ کے لوگوں کو مایوس نہیں کریں گے۔
مظفرگڑھ علی پور روڈ ہمیشہ سے دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ہم نے قاتل روڈ پر کئی قیمتی جانیں گنوائیں ہیں۔ اہلیانِ مظفرگڑھ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا جتنا بھی شکریہ ادا کریں کم ہے۔ اس اہم عوامی نوعیت کے پراجیکٹ کی تکمیل کا سہرا مریم نواز شریف کے سر ہوگا۔ مظفرگڑھ علی پور روڈ کے پہلے فیز مظفرگڑھ تا خانگڑھ پر کام شروع ہوگا۔
مظفرگڑھ سٹی کا شمار سیوریج سے متاثرہ شہروں میں ہوتا ہے۔ میری تجویز پر وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرگڑھ کو سٹی ڈویلپمنٹ پروگرام میں شامل کیا۔ مظفرگڑھ سٹی پروگرام کیلئے ساڑھے سات ارب رکھے گئے جن سے مظفرگڑھ کی سیوریج کی جدید طرز پر ہوگی۔ میونسپل کمیٹی میں تین نئے ڈسپوزل پمپ لگائے جائیں گے۔ بارش کے پانی کو کار آمد بنانے کیلئے زیرِ زمین واٹر ٹینک بنائے جائیں گے۔ مظفرگڑھ شہر کی قریبی آبادیوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔
انکوبیشن سنٹر مستقبل کے پلان کا حصہ ہے۔ جس سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے کھلیں گے۔
مظفرگڑھ میں جدید قسم کا بس اسٹینڈ اور سٹی الیکٹرک گرین بس سسٹم کی بھی منظوری ہوچکی ہے۔
اولڈ ایج ری کری ایشنل سنٹر بھی جلد مظفرگڑھ میں آنے والاہے۔
سکول ایجوکیشن میں انقلابی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ مظفرگڑھ میں دو سکولوں کو "سکول آف ایمیننس” کی منظوری ہوچکی ہے۔ مظفرگڑھ میں چائلڈ ارلی ہڈ سنٹر آف ایکسیلنس کی بھی منظوری ہوچکی ہے۔ تقریباً 150 سکولوں کی "مسنگ فسیلیٹیز” کی نشاندہی کے بعد "مسنگ فسیلیٹیز” کو پورا کرنے کی منظوری ہوچکی ہے۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں سٹیٹ آف دی آرٹ کمپیوٹر لیب مستقبل کے پلان کا حصہ ہے۔
اسکے علاوہ دیگر بہت اہم پراجیکٹس مستقبل کے پلان کا حصہ ہیں۔
مظفرگڑھ کے لوگوں سے جو وعدے کیے ہیں انکو تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہوں۔