سرکاری ملازمین کے لیے لالی پاپ
پاکستان کا بجٹ: سرکاری ملازمین کے لیے لالی پاپ یا گورکھ دھندہ؟
تحریر: پروفیسر شفیع اللہ خان
مرحبا بہ دولتِ پاکستان. جہاں ہر سال بجٹ کا ڈھول بجتا ہے، سرکاری ملازمین کی آنکھوں میں "مراعات” کے سپنے جگمگاتے ہیں، اور آخر میں پتہ چلتا ہے کہ "بجٹ” دراصل "بج” اور "ٹک” کا مرکب ہے—بج گئے ہم سب کے خواب، اور ٹک گئی ہے مہنگائی کی چھری ہمارے گلے پر!
1. بجٹ کی تیاری: ایک روح پرور ڈراما
ہر سال کی طرح اس بار بھی بجٹ بنانے والے "ماہرینِ اقتصادیات” (جن کی مہارت کا ثبوت یہ ہے کہ ملک کا قرضہ ہر سال 10 فیصد سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے) نے اعلان کیا ہے کہ "یہ بجٹ عوام دوست ہے!”۔ عوام دوست کا مطلب؟ جی ہاں، وہی جو آپ سمجھ رہے ہیں—”عوام دوست = عوام کے دوست نہیں!”
2. سرکاری ملازمین کے لیے "لالی پاپ” یا "نمک مرچ؟”
حکومت نے announce کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں 10% اضافہ ہوگا! واہ بھئی واہ! لیکن ذرا غور فرمائیں:
– 10% اضافہ = اگر آپ کی پہلے سے تنخواہ اتنی تھی کہ گھر کا کرایہ بھی پورا نہیں ہوتا تھا، تو اب 10% اضافے کے بعد آپ شاید چائے میں بسکٹ ڈال سکیں گے(بسکٹ خود نہیں، بیوی کے ساتھ شئیر کر کے)۔
– مہنگائی کا اضافہ = حکومت نے پیٹرول، بجلی، گیس سب مہنگا کر دیا ہے، تو یہ 10% دراصل "نمک مرچ لگا کر زخم پر ہاتھ پھیرنا” والی بات ہوئی۔
3. پنشنرز کے لیے خصوصی "سلوک
پنشنرز بھولے مت بنیں! آپ کے لیے بھی خصوصی "تحفہ” ہے—پنشن میں 10% اضافہ!یعنی اگر آپ کی پنشن پہلے 10,000 روپے تھی (جس میں سے 9,000 روپے ہسپتال کے بل میں چلے جاتے تھے)، تو اب آپ کو 11000 روپے ملےں گے! اب آپ اضافی 1000 روپے میں اپنی ادویات کا* ایک ہفتہ کا بندوبست کر سکیں گے (بشرطیکہ دوا کی قیمت نہ بڑھی ہو)۔
4. ٹیکسوں کا جال: "عام آدمی کی جیب میں ہاتھ”
حکومت کا کہنا ہے کہ "ہم ٹیکس چوروں کے خلاف سخت اقدامات کریں گے!”۔ مطلب یہ کہ جو پہلے سے ٹیکس دے رہا ہے، اس کا ٹیکس اور بڑھا دیا جائے گا، اور جو ٹیکس نہیں دیتا، اسے پہلے کی طرح نظرانداز کیا جائے گا۔ انصاف کی بات!
5. حتمی نتیجہ: "سب کے لیے خوشخبری… مگر!”
– سرکاری ملازمین: تنخواہ میں اضافہ ہوا ہے، مگر مہنگائی نے پہلے ہی اسے کھا لیا۔
– پنشنرز: پنشن بڑھی ہے، مگر یہ اضافہ ڈاکٹر کے فیس کے سامنے ہیچ ہے۔
– عوام: ان کے لیے "عزم” اور "امید” کے خوبصورت نعرے ہیں، جنہیں وہ اپنے خالی پیٹ پر سنا سکتے ہیں۔
آخری بات: پاکستان کا بجٹ دراصل "لالی پاپ” نہیں، بلکہ "چوروں کی بزم” ہے، جہاں "کچھ لوگ کھاتے ہیں، کچھ لوگ دیکھتے ہیں، اور باقی سب صرف اپنا پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں!”
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔