ترقی کا متوازن نسخہ
کسی بھی ترقی پذیر ملک کا بجٹ کیسا ہونا چاہئے:
ترقی کا متوازن نسخہ
تحریر: رشید ملک
ترقی پذیر ممالک کے لیے بجٹ صرف ایک مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ ایک ترقیاتی نقشہ ہوتا ہے، جس پر قوم کی معاشی اور سماجی سمت کا تعین ہوتا ہے۔ ایسے ممالک میں بجٹ کو محض آمدنی اور اخراجات کے حساب کتاب تک محدود رکھنا دانشمندی نہیں، بلکہ اسے قومی ترجیحات، عوامی فلاح، اور ترقیاتی وژن کا عکاس ہونا چاہئے۔
روایتی طور پر متوازن بجٹ وہ سمجھا جاتا ہے جس میں حکومت کی آمدنی اور اخراجات برابر ہوں، نہ کوئی مالی خسارہ ہو اور نہ ہی بچت۔ تاہم، ترقی پذیر ملکوں کے لیے یہ فارمولہ عملی طور پر نہ صرف محدود بلکہ بعض اوقات ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے ایک ایسا "ترقیاتی متوازن بجٹ” درکار ہوتا ہے جس میں روزمرہ کے ریونیو اخراجات اور آمدنی میں توازن قائم رکھا جائے، جبکہ پیداواری ترقیاتی منصوبوں کے لیے قابلِ برداشت خسارہ قبول کیا جا سکے۔
بجٹ کی تیاری میں سب سے اہم نکتہ آمدنی کے ذرائع کا تنوع ہے۔ اس کے لیے ٹیکس نظام میں شفافیت، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ نان ٹیکس ذرائع، جیسے سرکاری اداروں کی فیسیں، منافع اور لائسنسنگ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیرونی امداد اور قرض بھی وقتی ضرورت کے طور پر لیے جا سکتے ہیں، لیکن ان پر انحصار خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔
اخراجات کے حوالے سے ترجیحی بنیادوں پر تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، روزگار اور بنیادی ڈھانچے پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے شعبے نہ صرف انسانی ترقی کے ضامن ہیں بلکہ طویل مدتی اقتصادی بہتری کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کے لیے لازم ہے کہ قرض صرف ایسے منصوبوں کے لیے لیا جائے جو پیداواری نوعیت کے ہوں اور معیشت کو خود کفیل بنانے میں مدد دیں۔ ساتھ ہی کرپشن کا خاتمہ، ادارہ جاتی احتساب اور مالیاتی شفافیت بجٹ کی کامیابی کے بنیادی ستون ہیں۔
مہنگائی جیسے چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو افراطِ زر کو قابو میں رکھ سکیں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھیں۔ کیونکہ جب عام آدمی کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے تو بجٹ کا معاشرتی تاثر بھی منفی ہو جاتا ہے۔
مختصر یہ کہ ترقی پذیر ملکوں کے بجٹ کو صرف "خسارہ کم کرنے” کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ اسے ایک ایسے متوازن اور ترقیاتی حکمتِ عملی کے طور پر ترتیب دینا چاہئے جو معاشی خودمختاری، عوامی فلاح اور پائیدار ترقی کی ضمانت دے۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔