سگریٹ نہ پینے والے افراد میں کینسر کا بڑھتا رجحان، وجہ کیا ہے؟

Lung-cancer

یورپ، امریکا اور ایشیا میں سگریٹ نہ پینے والوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کی شرح میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اب اسے سگریٹ نوشی سے مختلف ایک الگ بیماری تصور کیا جا رہا ہے۔ اس بیماری کا خواتین خصوصاً ایشیا کی خواتین اور نوجوان زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات سامنے آ رہی ہیں اور انہوں نے اس قسم کے کینسر کوایڈینوکارسینوما کینسر کا نام دیا ہے۔
سگریٹ نہ پینے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر اکثر مخصوص جینیاتی تبدیلیوں جیسا کہ EGFR جین میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ تبدیلیاں خواتین اور خاص طور پر مشرقی ایشیائی افراد میں زیادہ دیکھی گئی ہیں۔
یہ کینسر سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کے برعکس عموماً بلغم پیدا کرنے والے خلیوں سے شروع ہوتا ہے۔
ہوا میں باریک ذرات، جو گاڑیوں کے دھوئیں، فیکٹریوں اور جنگلات کی آگ سے نکلتے ہیں، پھیپھڑوں کے کینسر کی دوسری بڑی وجہ ہیں۔
یہ ذرات ڈی این اے کو براہ راست متاثر نہیں کرتے، لیکن وہ چھپی ہوئی جینیاتی تبدیلیوں کو متحرک کر کے ٹیومر کی افزائش شروع کر دیتے ہیں۔لکڑی، کوئلہ یا دیگر ایندھن جلانے سے بننے والا دھوا غیر ہوادار گھروں میں خواتین کے لیے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ زیادہ وقت گھر کے اندر گزارتی ہیں۔
خواتین کے ہارمونز، خاص طور پر ایسٹروجن جین میں میوٹیشنز کی افزائش میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایشیائی خواتین میں ایسٹروجن کے میٹابولزم سے جڑی جینیاتی تبدیلیاں بھی زیادہ پائے گئے ہیں۔
پھیپھڑوں کا یہ کینسر عموماً تیسرے یا چوتھے مرحلے میں تشخیص ہوتا ہے کیونکہ اس کی علامات ابتدا میں معمولی ہو سکتی ہیں، مثلاً کھانسی، سینے میں درد، سانس پھولنا یا سیٹی جیسی آواز۔

تاہم اب ایسے ادویات موجود ہیں جو جینیاتی تغیرات کو ہدف بناتی ہیں اور اس کینسر کا شکار کئی مریض 10 سال یا اس سے زائد عرصہ تک زندہ رہنے لگے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثر دواؤں کے خلاف انسانی جسم میں مزاحمت پیدا ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے بیماری واپس آ سکتی ہے۔ اس حوالے سے نئی ادویات پر مسلسل تحقیق جاری ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے فضا کی بہتری کے لیے سخت ہدایات دی ہیں، لیکن اب بھی دنیا کی 99 فیصد آبادی ایسی ہوا میں سانس لے رہی ہے جو مضر صحت ہے۔

سگریٹ نہ پینے والوں میں پھیپھڑوں کا کینسر ایک تیزی سے پھیلتی ہوئی اور الگ بیماری کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جس کی وجوہات میں جینیاتی تبدیلیاں، آلودگی اور حیاتیاتی عوامل شامل ہیں۔ جیسے جیسے سگریٹ نوشی کم ہو رہی ہے، ماحولیاتی آلودگی اور جینیاتی تحقیق نئے محاذ بن چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، سماجی سطح پر بھی آگاہی بڑھانا ضروری ہے تاکہ غیر سگریٹ نوش مریضوں کو اس بیماری کی وجہ سے الزام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے