عیدالاضحی اور عوامی شعور
عیدالاضحی: قربانی، مقصد، فضیلت اور عوامی شعور
تحریر : سردار زین خان
شاعر ، مصنف ، ناول نگار
سٹوڈینٹ آف میتھمیٹکس
گورنمنٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ
1. عیدالاضحی کا تعارف
عیدالاضحی، اسلامی کیلنڈر کے اہم ترین مواقع میں سے ایک ہے، جو ہر سال 10 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے۔ اسے "عیدِ قربان” بھی کہا جاتا ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت اور اطاعتِ الٰہی کی اعلیٰ مثال کی یاد تازہ کرتی ہے۔
2. حج بیت اللہ اور قربانی کا تعلق
عیدالاضحی کا گہرا تعلق حج کے ساتھ ہے۔ حج کی ادائیگی کے دوران میدانِ عرفات، مزدلفہ، اور منیٰ میں جو مناسک ادا کیے جاتے ہیں، ان کا نکتہ عروج قربانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”
(الکوثر: 2)
"تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔”
3. قربانی کا مقصد
قربانی محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال، نفس اور خواہشات کو قربان کرنے کا عملی مظاہرہ ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ”
(الحج: 37)
"نہ ان کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں اور نہ خون، بلکہ تمہاری پرہیزگاری اسے پہنچتی ہے۔”
4. نمازِ عید اور خطبہ
نمازِ عیدالاضحی دو رکعت واجب نماز ہے، جو خطبہ کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔ امام خطبہ میں قربانی کی اہمیت، سنتِ ابراہیمی اور مسلمانوں کو اتحاد و ایثار کی تلقین کرتا ہے۔
5. قربانی کرنا: شرعی حکم
قربانی واجب ہے ہر اس صاحبِ نصاب مسلمان پر جو عیدالاضحی کے دنوں میں مالی استطاعت رکھتا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو قربانی کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”
(ابن ماجہ)
6. قربانی کے جانور کی عمر، رنگ و خدوخال
شرعی اعتبار سے قربانی کے جانور کی عمر درج ذیل ہونی چاہیے:
بکری یا دنبہ: کم از کم ایک سال
گائے یا بیل: کم از کم دو سال
اونٹ: کم از کم پانچ سال
جانور صحیح و سالم ہو، نہ اندھا ہو، نہ لنگڑا، نہ کان کٹا، نہ سینگ ٹوٹا۔ اگر جانور میں ظاہری یا پوشیدہ عیب ہو تو قربانی درست نہیں۔
7. زخمی یا عیب دار جانور کی قربانی
نبی کریم ﷺ نے چار قسم کے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا:
وہ جس کی آنکھ صریحاً خراب ہو
وہ جو بیمار ہو
وہ جو لنگڑا ہو
وہ جو کمزور ہو کہ ہڈیوں کا مغز بھی نہ ہو
(مسند احمد، ابو داؤد)
8. قربانی کا گوشت: تقسیم کا شرعی طریقہ
قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے:
1. ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے
2. ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے
3. ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے
9. قربانی کے حصے
گائے، بیل یا اونٹ میں سات حصے کیے جا سکتے ہیں
بکری یا دنبہ صرف ایک فرد کی قربانی کے لیے کافی ہے
10. آج کے لوگوں کی نیت: صرف گوشت تک محدود؟
بدقسمتی سے آج بعض افراد قربانی کو صرف گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ مقصدِ قربانی کو بھلا کر نمود و نمائش اور مہنگے جانور دکھا کر روحِ سنت کو پامال کر رہے ہیں۔
11. قربانی کی فضیلت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قربانی کے دن اللہ کے ہاں خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل پسندیدہ نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔”
(ترمذی)
12. قربانی: ہماری قوم کی روش
قربانی صرف جانور کاٹنے کا نام نہیں بلکہ ایک قومی شعور، اتحاد، مواخات اور احسان کا جذبہ جگانے کا موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غریبوں، یتیموں، اور بیواؤں کو یاد رکھیں تاکہ سنتِ ابراہیمی کا صحیح مفہوم اجاگر ہو۔
13. عوام الناس کا جوش و جذبہ
عیدالاضحی کے ایام میں لوگوں میں بے حد جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ منڈیوں کی رونق، بچوں کی خوشیاں، بزرگوں کی رہنمائی، اور گھروں کی تیاری سب سنتِ ابراہیمی کے احیاء کا منظر پیش کرتے ہیں۔
14. قربانی کے اجر و ثواب
قربانی پر اللہ تعالیٰ کا انعام بے حد و حساب ہے۔ ہر بال کے بدلے نیکی، اور ہر قطرہ خون گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ کے ہاں قبول ہو جاتا ہے۔ پس خوش دلی سے قربانی کرو۔”
(ترمذی)
15. چند اشعار قربانی کے حوالے سے
قربانی ہے اطاعت کی وہ زندہ مثال
ابراہیمی جذبہ ہے ایمان کا کمال
خون میں ڈھل جائے جو بندگی کا رنگ
بنے وہی قربانی، عبادت کا سنگ
نتیجہ
عیدالاضحی محض تہوار نہیں بلکہ ایک عملی درس ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں ہر شے قربان کرنے کو تیار رہیں۔ آئیے اس عید پر صرف گوشت بانٹنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ قربانی کی روح کو سمجھیں اور اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔