سیالکوٹ میں خواجہ آصف خطاب، پاک بھارت تنازع کی حقیقت اور چھتیس سالہ سیاسی زندگی کا تفصیلی جائزہ

سیالکوٹ — 31 اکتوبر، 2026 — وفاقی وزیر دفاع کا سیالکوٹ میں خواجہ آصف خطاب کے عنوان سے ایک بڑا عوامی اجتماع ہوا جس میں انہوں نے قومی سلامتی، پاک بھارت عسکری تاریخ، اپنے چھتیس سالہ سیاسی سفر اور بین الاقوامی سفارتی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی—یہ تفصیلات امید نیوز کو ذرائع ابلاغ اور سرکاری اعلامیے سے حاصل ہوئی ہیں۔

اپنے اس اہم خطاب کے دوران انہوں نے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کو اپنی بنیادی پہچان اور وہاں کے عوام کی خدمت کو اپنی سچی ذمہ داری قرار دیا۔

خواجہ آصف خطاب کے دوران پاک بھارت جنگوں کے بارے میں کیا اہم بات سامنے آئی؟

سیالکوٹ کے عوام کے سامنے خواجہ آصف خطاب کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں بھی کئی جنگیں ہوئی ہیں لیکن ہر بار کوئی نہ کوئی ابہام رہ جاتا تھا۔ تاہم اس بار صورتحال بالکل مختلف اور تاریخی نوعیت کی رہی:

"جنگیں پہلے بھی ہوئی ہیں لیکن کوئی نہ کوئی ابہام رہ جاتا تھا۔ یہ بھارت کے ساتھ پہلی جنگ تھی جس میں کوئی ابہام نہیں رہا اور بھارت نے خود اور اس کی فوج نے اس کا اعتراف کیا۔ اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دینا پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی اعلیٰ قیادت سمیت عالمی رہنما متعدد بار اس بات کا ذکر کر چکے ہیں اور گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد کی تصدیق کر چکے ہیں، جو پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کا عالمگیر اعتراف ہے۔

خواجہ آصف خطاب میں چھتیس سالہ سیاسی سفر کا ذکر کس طرح ہوا؟

اپنے طویل سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال انیس سو نانوے میں انہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور گزشتہ چھتیس سال سے ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی نشیب و فراز اور قید و بند کی صعوبتوں کو تفصیل سے بیان کیا:

1. سیاسی قید اور احتساب کے اداروں کی کارروائی

انہوں نے بتایا کہ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ چار مرتبہ جیل گئے، جن میں جنرل مشرف کے دور میں اٹک قلعہ کی قید اور سال دو ہزار بیس میں سابق دور حکومت میں چھ ماہ کی حراست شامل ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حراست میں رکھنے والے ادارے انہیں چھ ماہ تک یہ نہ بتا سکے کہ ان پر کیا الزام ہے۔

2. انتقامی سیاست سے ملک کو پہنچنے والا نقصان

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب سیاسی حکومتیں کسی کو گرفتار کرنا چاہتی ہیں تو پہلے پکڑتی ہیں اور بعد میں سوچتی ہیں کہ کیا الزام لگانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتقامی سیاست نے ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

3. پارلیمنٹ میں ملاقات کا حال

انہوں نے پارلیمنٹ میں مولانا فضل الرحمن سے ہونے والی حالیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے خوشگواری کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے سیاسی حالات اور سختیاں دیکھنے کے بعد بھی ملک کی خدمت کے لیے جذبہ اور ہمت برقرار ہے۔

خواجہ آصف خطاب کی روشنی میں عالمی سفارتی کامیابیاں کیا ہیں؟

بین الاقوامی و علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ قیادت کی سفارتی کامیابیوں کو سراہا اور اسلامی ممالک کے لیے پاکستان کے اصولی موقف کی وضاحت کی:

1. غیر ملکی عسکری اڈوں کا تجزیہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا اور بالخصوص اسلامی ممالک پر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ سمندر پار قائم غیر ملکی عسکری اڈے ان کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں۔

2. عالمی سطح پر پاکستان کا مقام

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے، وہ سفارتی سطح پر ایک قابلِ فخر کامیابی ہے۔ ملک کی آزادانہ خارجہ پالیسی اور مضبوط دفاع نے عالمی برادری میں پاکستان کے وقار کو مزید بلند کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے