امریکی فوج میں عارضی تدفین کے لیے US Army Mass Burial Drill کا باقاعدہ آغاز

3111010173d36b91793353662-0-600x450

واشنگٹن — 30 اکتوبر، 2026 — امریکی عسکری تاریخ میں سات دہائیوں بعد ایک غیر معمولی پیش رفت کے تحت US Army Mass Burial Drill کی مشقیں شروع کر دی گئی ہیں، جس کا مقصد مستقبل میں ممکنہ شدید اور ہولناک جنگ کے دوران بڑی تعداد میں ہونے والے جانی نقصان سے نمٹنے اور فوجیوں کی عارضی تدفین کا طریقہ کار جانچنا ہے—یہ تفصیلی معلومات امید نیوز کو عالمی دفاعی ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔

یہ مشق ‘آپریشن ڈریگن کونینٹ’ (Operation Dragon Covenant) کے دوسرے مرحلے کے تحت انجام دی گئی، جس کا مقصد ممکنہ عالمی تصادم کے دوران لاشوں کی منتقلی میں تاخیر کی صورت میں عارضی و محفوظ تدفین کا نظام بنانا ہے۔

میدانِ جنگ میں US Army Mass Burial Drill کے عملی مراحل

اس US Army Mass Burial Drill کے دوران عسکری انجینئرز نے بھاری D6 بلڈوزر کا استعمال کرتے ہوئے ایسی خاص خندقیں تیار کیں جن میں فرضی انسانی باقیات رکھ کر جائزہ لیا گیا کہ مٹی ڈالنے اور دبانے کے باوجود انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مشق کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ جنگ کی صورت حال ختم ہونے کے بعد فرانزک ماہرین ان لاشوں کو محفوظ طریقے سے نکال کر ان کی درست شناخت کر سکیں اور بعد ازاں مکمل عزت و احترام کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے حوالے کر سکیں۔ عسکری حکام کے مطابق یہ طریقہ کار صرف انتہائی ہنگامی جنگی حالات کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

خندقوں کی گنجائش اور عسکری انجینئرنگ کی کارکردگی

مشق کے دوران فوج نے خندقوں کی کھدائی اور بھاری مشینری کے استعمال سے متعلق اہم اعداد و شمار اور ٹائم فریم کا جائزہ لیا:

  • ایک خندق کی تیاری کا وقت: بلڈوزر کی مدد سے ایک ایسی خندق کی کھدائی اور مٹی کی بھرائی میں اوسطاً 1 گھنٹہ 15 منٹ کا وقت لگا جس میں 20 لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔

  • معیاری پلاٹ کی گنجائش: امریکی عسکری مینوئل کے مطابق ایک معیاری عارضی تدفینی پلاٹ میں 5 متوازی خندقیں شامل ہوتی ہیں جن میں مجموعی طور پر 100 لاشوں کی گنجائش ہوتی ہے۔

  • 24 گھنٹوں کی پیداواری صلاحیت: عسکری ماہرین کے تخمینے کے مطابق ایک مکمل لیس انجینئرنگ کمپنی مسلسل 24 گھنٹے آپریشن جاری رکھ کر 2,400 لاشوں کے لیے خندقیں تیار اور بند کر سکتی ہے۔

عسکری حکمتِ عملی اور تیسرا مرحلہ

اس US Army Mass Burial Drill کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ متوازی خندقوں کے درمیان 7 فٹ کا فاصلہ بلڈوزر کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے کم ثابت ہوا، جس کے بعد عسکری مینوئل میں ضروری اصلاحات کی جا رہی ہیں۔

امریکی فوج کے ڈائریکٹوریٹ نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن ڈریگن کونینٹ کا تیسرا مرحلہ بہار 2027 میں منعقد کیا جائے گا، جس میں سیکیورٹی گھیراؤ، فیلڈ میڈیکل سہولیات، اور ڈاینگناسٹک شناخت کے مراکز کو شامل کر کے اس نظام کو مکمل عملی شکل دی جائے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے