خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف اربوں کی مالی بدعنوانی کے شواہد سامنے آ گئے، وارنٹ گرفتاری بھی جاری

Sohail Afridi

پشاور — 31 اکتوبر، 2026 — خیبر پختونخوا حکومت کے ذرائع نے سابق وزیراعلیٰ کے خلاف اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور سہیل آفریدی کرپشن کے ثبوت حاصل کرنے کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے گئے ہیں—یہ تفصیلات امید نیوز کو صوبائی حکومتی ذرائع اور باخبر نیوز ایجنسیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔

حکومتی رپورٹس کے مطابق وارنٹ جاری ہونے کے باوجود فی الوقت انہیں باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا کیونکہ وہ اس وقت حفاظتی تحویل میں موجود ہیں۔

سہیل آفریدی کرپشن کے معاملے میں کون سی بڑی تحقیقات جاری ہیں؟

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تمام متعلقہ سرکاری اداروں اور محکموں سے گزشتہ ادوار کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے تاکہ مالی امور کی شفاف جانچ پڑتال کی جا سکے:

1. صحت کارڈ منصوبے میں بے ضابطگیاں

حکام کا کہنا ہے کہ مفت علاج کے صوبائی صحت کارڈ منصوبے میں بڑے پیمانے پر انتظامی بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانی کے شواہد ملے ہیں۔ اس سلسلے میں جاری کردہ فنڈز، ہسپتالوں کی پینلنگ اور خریداری کا تمام تر ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

2. نیب اور اینٹی کرپشن کو کیسز کی منتقلی

ابتدائی تحریری انکوائری اور ریکارڈ کی چھان بین مکمل ہوتے ہی یہ تمام کیسز قانونی کارروائی کے لیے قومی احتساب بیورو یعنی نیب اور اینٹی کرپشن محکمے کے سپرد کر دیے جائیں گے تاکہ ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیے جا سکیں۔

سابق وزیراعلیٰ کی موجودہ صورتحال اور گرفتاری کے حوالے سے حکومت کا کیا کہنا ہے؟

وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد سابق وزیراعلیٰ کی عدم گرفتاری کے حوالے سے حکام نے صورتحال واضح کی ہے:

"سابق وزیراعلیٰ اس وقت حفاظتی تحویل اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ان کے خلاف مبینہ مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے معاملات کی شفاف تحقیقات بلا تعطل جاری ہیں۔”

حکومتی ذرائع کے مطابق تمام محکموں سے موصول ہونے والے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے