حکومت کا نیا پرائسنگ فارمولا مسترد، ملک بھر میں 16 نومبر سے ایل پی جی ہڑتال اور فروخت بند کرنے کا اعلان

LPG

سلام آباد — 01 نومبر، 2026 — وفاقی حکومت کی جانب سے مائع پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتوں کے تعین کے لیے نیا طریقہ کار متعارف کرائے جانے کے بعد مارکیٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز نے 16 نومبر سے ملک گیر ایل پی جی ہڑتال اور گیس کی فروخت مکمل معطل کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے.

ایل پی جی ایسوسی ایشنز کے ہنگامی اجلاس کے دوران حکومتی اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سپلائی کی فراہمی بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

ایل پی جی ہڑتال کا اعلان کیوں کیا گیا اور فیصلے کے اہم نکات کیا ہیں؟

ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر کا کہنا تھا کہ حکومت کے نئے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار نے پوری صنعت کو بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ تمام متعلقہ تنظیمی نمائندوں نے ہنگامی اجلاس میں مشترکہ طور پر احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا:

  • سولہ نومبر سے فروخت کی معطلی: ایل پی جی ہڑتال کے تحت 16 نومبر سے ملک بھر میں چھوٹے بڑے ڈسٹری بیوٹرز اور فلنگ پلانٹس مائع پیٹرولیم گیس کی سیل مکمل طور پر بند رکھیں گے۔

  • مشترکہ متفقہ فیصلہ: تمام صوبائی اور مرکزی ایسوسی ایشنز نے حکومتی فارمولے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کارروائیاں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • سپلائی چین پر اثرات: گیس کی فروخت کی بندش سے موسمِ سرما کے آغاز میں گھریلو اور تجارتی صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومتی فارمولے سے گیس کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین علی حیدر نے نئے طریقہ کار کے نتیجے میں ہونے والے مالی بوجھ کی تفصیلات پیش کیں:

1. قیمتوں میں پچیس سے تیس فیصد اضافے کا خدشہ

علی حیدر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اس نئے طریقہ کار کو زبردستی نافذ کیا تو ایل پی جی کی قیمتوں میں فوری طور پر 25 سے 30 فیصد تک کا بھاری اضافہ ہو جائے گا، جس سے عام صارف کی جیب پر شدید اضافی بوجھ پڑے گا۔

2. تجارتی تنظیموں کا مطالبات پر اصرار

انڈسٹری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ گیس کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ قبول نہیں کریں گے اور جب تک حکومت اس فارمولے کو واپس لے کر نیا منصفانہ حل نہیں نکالتی، 16 نومبر سے بندش کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے