اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشیوں کی نوید
سمندر پار پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری: OPF نے بچوں اور شریکِ حیات کے لیے کروڑوں روپے کے تعلیمی وظائف کا اعلان کر دیا
اسلام آباد: وفاقی وزارتِ سمندر پار پاکستانیز و افرادی قوت کی ترقی کے زیرِ انتظام فعال ادارے ‘اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن’ (OPF) نے دیارِ غیر میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانیوں کے خاندانوں کے لیے ایک بڑے تعلیمی ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے پاکستان کے معتبر تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں اور ان کے شریکِ حیات (بیوی یا شوہر) کے لیے تعلیمی وظائف کی اسکیم 2026ء جاری کر دی ہے۔
اس اقدام کا مقصد ان پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اپنی محنت کی کمائی سے ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرتے ہیں اور وطنِ عزیز کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
وظائف کا دائرہ کار اور تعلیمی سطح
او پی ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ وظائف ملک بھر کے تسلیم شدہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو دیے جائیں گے۔ اسکیم میں درج ذیل تعلیمی درجات کو شامل کیا گیا ہے:
-
انٹرمیڈیٹ (Intermediate): ایف اے، ایف ایس سی اور مساوی کورسز۔
-
گریجویشن (Undergraduate): بالخصوص پروفیشنل ڈگری پروگرامز جیسے کہ ایم بی بی ایس (MBBS)، بی ڈی ایس (BDS) اور انجینئرنگ کے طلبہ۔
-
پوسٹ گریجویشن: ماسٹرز یا ایم ایس (MS) پروگرامز کے طلبہ بھی اس اسکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
اہلیت کا معیار: کون درخواست دے سکتا ہے؟
حکومت نے شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے اہلیت کا ایک سخت اور جامع معیار مقرر کیا ہے تاکہ وظائف صرف حقدار اور مستحق طلبہ تک پہنچ سکیں۔
-
تعلیمی کارکردگی: درخواست گزار طالب علم کے لیے لازمی ہے کہ اس نے اپنے حالیہ سالانہ امتحانات میں کم از کم 60 فیصد نمبر حاصل کیے ہوں، یا اگر وہ سمسٹر سسٹم میں ہے تو اس کا سی جی پی اے (CGPA) کم از کم 2.5 ہونا ضروری ہے۔
-
رجسٹریشن کی شرط: طالب علم کے والدین (والد یا والدہ) یا شریکِ حیات کا او پی ایف میں بطور رجسٹرڈ ممبر ہونا لازمی ہے۔ واضح رہے کہ وہ تمام پاکستانی جو بیرونِ ملک روانگی سے قبل اپنا پاسپورٹ ‘پروٹیکٹر’ کرواتے ہیں، وہ خود بخود او پی ایف کے ممبر بن جاتے ہیں۔
-
آمدنی کی حد: سماجی تحفظ کے پیشِ نظر یہ وظائف ان خاندانوں کے لیے ہیں جن کے سرپرست کی ماہانہ آمدنی 2 لاکھ روپے سے زائد نہیں ہے۔
-
دہرا وظیفہ: درخواست گزار کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس تعلیمی سال کے دوران کسی دوسرے سرکاری یا نجی ادارے سے کوئی اور وظیفہ حاصل نہ کر رہا ہو۔
-
یتیم طلبہ کے لیے رعایت: ایسے رجسٹرڈ ممبران جو وفات پا چکے ہیں، ان کے بچے بھی مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت اس امداد کے لیے اہل قرار دیے گئے ہیں۔
درخواست جمع کرانے کا طریقہ کار اور دفاتر
او پی ایف نے طلبہ کی سہولت کے لیے درخواست فارم کے حصول اور جمع کرانے کے عمل کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ امیدوار درج ذیل طریقوں سے فارم حاصل کر سکتے ہیں:
-
او پی ایف کی سرکاری ویب سائٹ سے آن لائن ڈاؤن لوڈنگ۔
-
اسلام آباد میں واقع ہیڈ آفس یا ملک کے بڑے شہروں بشمول لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، کوئٹہ اور میرپور (آزاد کشمیر) میں قائم علاقائی دفاتر سے دستی حصول۔
ڈیڈ لائن اور رابطہ کی معلومات
وہ تمام طلبہ جو ان شرائط پر پورا اترتے ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مکمل شدہ فارم تمام ضروری دستاویزات کے ہمراہ 30 اپریل 2026ء تک جمع کروا دیں۔ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔
مزید رہنمائی کے لیے او پی ایف ہیڈ آفس اسلام آباد کے فون نمبرز، ٹول فری ہیلپ لائن یا آفیشل ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جا سکتا ہے، جہاں عملہ درخواست گزاروں کی معاونت کے لیے ہمہ وقت موجود ہے۔
ماہرین کی رائے اور معاشی اثرات
تعلیمی ماہرین نے او پی ایف کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں جہاں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہاں انٹرمیڈیٹ سے لے کر ایم ایس تک کے وظائف اوورسیز پاکستانیوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ اس سے نہ صرف شرحِ خواندگی میں اضافہ ہوگا بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا اپنے وطن کے اداروں پر اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔
یہ اقدام حکومتِ پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق اور ان کے بچوں کے روشن مستقبل کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔