دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب بڑا قدم، صوبہ بھر میں مزید 15 ہزار جانور تقسیم کرنے کا فیصلہ
پنجاب کی دیہی خواتین کے لیے ساڑھے 4 ارب کا بڑا پیکج: 15 ہزار مزید جانوروں کی تقسیم کا فیصلہ، بیواؤں اور مطلقہ خواتین کو ترجیح
لاہور/ملتان: حکومتِ پنجاب نے صوبے کی دیہی خواتین کو معاشی طور پر خودکفیل بنانے اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے ایک تاریخی منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میگا پراجیکٹ کے تحت صوبہ بھر کی مستحق دیہی خواتین میں مزید 15 ہزار جانور تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر مجموعی طور پر 4.5 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں غربت کا خاتمہ، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ اور بالخصوص بیوہ و مطلقہ خواتین کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
جانوروں کی تقسیم کا طریقہ کار اور ترجیحی گروپ
حکومتی اعلامیے کے مطابق، اس اسکیم کے تحت اعلیٰ نسل کی بھینسیں اور گائیں تقسیم کی جائیں گی۔ منصوبے میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ صرف وہ خواتین اس پیکج کے لیے اہل ہوں گی جنہیں ماضی میں کسی بھی سرکاری اسکیم کے تحت مویشی فراہم نہیں کیے گئے۔
اس اقدام سے نہ صرف دیہی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ لائیو اسٹاک کی فارمنگ میں خواتین کی شمولیت سے دودھ کی سپلائی چین میں بھی بہتری آئے گی۔
ڈویژن وار تقسیم کی تفصیلات
حکومت نے جنوبی پنجاب کے اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے جہاں لائیو اسٹاک کی گنجائش زیادہ ہے۔ جانوروں کی تقسیم کا اعداد و شمار درج ذیل ہے:
-
ڈی جی خان ڈویژن: اس ڈویژن کے لیے سب سے زیادہ 6,250 جانور مختص کیے گئے ہیں۔
-
ملتان ڈویژن: ملتان ڈویژن کی خواتین میں 5,000 مویشی تقسیم ہوں گے۔
-
بہاولپور ڈویژن: اس ریجن کے لیے مجموعی طور پر 3,750 جانور فراہم کیے جائیں گے۔
ضلعی سطح پر کوٹہ اور انتظامی کمیٹیاں
منصوبے کو نچلی سطح تک پہنچانے کے لیے ہر ضلع کا کوٹہ بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ مظفرگڑھ، راجن پور، لیہ، اور کوٹ ادو میں سے ہر ضلع کو 1,250 مویشی دیے جائیں گے۔ اسی طرح بہاولپور، بہاولنگر، اور رحیم یار خان کے اضلاع میں بھی فی ضلع 1,250 جانور تقسیم ہوں گے۔
اس پورے عمل کی نگرانی متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز (DCs) کریں گے۔ ان کی سربراہی میں خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں جو درخواست گزار خواتین کی جانچ پڑتال، میرٹ کی فہرستوں کی تیاری اور جانوروں کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔
پہلا مرحلہ اور منصوبے کی پیش رفت
یہ منصوبہ محض کاغذی کارروائی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر کامیابی سے جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے تحت اب تک 9,000 جانور کامیابی سے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے بعد اب دوسرے مرحلے میں 15 ہزار مزید جانوروں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ پنجاب کی تاریخ میں دیہی خواتین کے لیے لائیو اسٹاک کا سب سے بڑا سپورٹ پروگرام بن گیا ہے۔
معاشی اثرات اور ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ارب روپے کی یہ سرمایہ کاری دیہی علاقوں میں ‘وائٹ ریوولیوشن’ (سفید انقلاب) کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ بیوہ اور مطلقہ خواتین کو جانوروں کی فراہمی سے ان کا کسی پر انحصار ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکیں گی۔
لائیو اسٹاک ماہرین کے مطابق، ان جانوروں کی تقسیم سے سالانہ بنیادوں پر لاکھوں لیٹر دودھ کی اضافی پیداوار متوقع ہے، جس سے نہ صرف صوبائی سطح پر غذائی تحفظ (Food Security) یقینی بنے گی بلکہ دیہی علاقوں میں جانوروں کی بہتر نسل کشی کو بھی فروغ ملے گا۔
اہلیت کا معیار اور شفافیت
کمیٹیوں کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی نااہل شخص یا سیاسی سفارش والا فرد اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ تمام ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے تاکہ دوہرے فائدے (Double Dipping) کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔