فیکٹ چیک: فضائی حدود سے متعلق علامہ ناصر عباس کا ویڈیو بیان AI سے تیار کیا گیا

news-1771176527-2788

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کیں۔

یہ دعویٰ غلط ہے۔ سینیٹر نے پروگرام کے دوران ایسی کوئی گفتگو یا ریمارکس نہیں دیئے۔

دعویٰ
3 مارچ کو ایکس (ٹوئٹر) پر صارف نے 18 سیکنڈ کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کیا، جس میں اپوزیشن رہنما علامہ راجہ ناصر عباس کو ایک نجی نیوز چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس پوسٹ کا کیپشن کچھ یوں تھا: ”پاکستان، ایران پر حملے کے لیے اپنی فضائی حدود امریکہ اور اسرائیل کو دے رہا ہے۔ اس شیعہ رہنما کو سنیں۔“

اس ویڈیو میں علامہ ناصر عباس یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ: ”میری آرمی کی ٹاپ لیڈر شپ سے کئی مرتبہ بات ہوئی، مگر پھر ہماری فوج نے امریکہ کو اپنا ائیر سپیس استعمال کرنے دیا، یہ بہت غلط ہے، بہت شرمناک ہے، ایران میں جو بھی کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہے۔“

اس آرٹیکل کے شائع ہونے تک مذکورہ ویڈیو کو 46 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔

حقیقت
علامہ راجہ ناصر عباس نے اس انٹرویو کے دوران پاکستان کی فضائی حدود کے امریکہ کی جانب سے استعمال ہونے سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ درحقیقت، یہ پروگرام 2024 میں نشر ہوا تھا، جو رواں برس فروری میں ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے بہت پہلے کی بات ہے۔

انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا یہ کلپ علامہ ناصر عباس کے ایک نجی نیوز چینل کو 27 جولائی 2024 کو دیے گئے انٹرویو سے لیا گیا ہے۔ جیو فیکٹ چیک نے اس اصل ریکارڈنگ کا جائزہ لیا ہے جو کہ 40 منٹ سے زیادہ طویل ہے۔ اس پوری گفتگو کے دوران سیاسی رہنما نے کہیں بھی امریکہ کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کیے جانے کا ذکر نہیں کیا۔

مکمل انٹرویو یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔

جیو فیکٹ چیک نے یونیورسٹی ایٹ بفیلو کے ٹول ڈیپ فیک او میٹر (DeepFake-o-Meter) کے ذریعے بھی اس وائرل کلپ کا تجزیہ کیا۔ اس ٹول کے نتائج میں ویڈیو کے جعلی ہونے کا امکان 99.7 فیصد ظاہر کیا گیا، جو اس بات کی واضح نشاندہی ہے کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) مواد کی شناخت کرنے والے پلیٹ فارم ہائیو ماڈریشن (Hive Moderation) نے بھی اس ویڈیو کلپ کو 99.7 فیصد کا مجموعی اسکور دیا ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے