اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم: 64 افراد ہلاک، میڈرڈ اندلس ریلوے لائن معطل

images

ٹولیڈو — 28 اکتوبر، 2026 — اسپین ہائی اسپیڈ ٹرین حادثہ کے نتیجے میں ٹولیڈو کے قریب دو تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان ہونے والے دل دہلا دینے والے تصادم میں کم از کم 64 افراد ہلاک اور درجنوں شدید زخمی ہو گئے ہیں—یہ تفصیلات امید نیوز کو ہسپانوی حکام کی جاری کردہ رپورٹس سے حاصل ہوئی ہیں۔

دو تیز رفتار ٹرینوں میں تصادم اور ریسکیو آپریشن

ہسپانوی ریلوے آپریٹر ‘ادیف’ (Adif) اور علاقائی حکومت کے مطابق یہ دردناک حادثہ صبح 9 بجے کے قریب اس وقت پیش آیا جب دارالحکومت میڈرڈ کو جنوبی خطے اندلس سے ملانے والی مرکزی ہائی اسپیڈ لائن پر دو مسافر ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں۔

حادثے کے فوراً بعد ‘کاسٹیلا لا مانچا’ کی علاقائی حکومت نے 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جبکہ امدادی ٹیموں اور ریسکیو اہلکاروں نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے بقیہ مسافروں کو تباہ شدہ بوگیوں سے نکال کر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ حادثے کے باعث میڈرڈ اور جنوبی اسپین کے درمیان تمام ہائی اسپیڈ ٹرین سروسز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

رواں سال کا دوسرا بڑا ٹرین حادثہ اور تحققیات

ریلوے حکام اور پولیس کی ٹیمیں حادثے کی اصل وجوہات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات میں مصروف ہیں، تاہم اس سانحے نے ملک میں ریلوے کی حفاظت سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں:

  • جنوری کا ہولناک حادثہ: رواں سال جنوری کے مہینے میں اسی ریلوے لائن پر اور انہی آپریٹرز کی تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 46 افراد لقمہ اجل بن چکے تھے۔

  • حفاظتی نظام پر سوالات: ایک ہی سال کے دوران ایک ہی لائن پر دو بڑے اور مہلک حادثات پیش آنے پر ٹریک سگنلنگ اور آٹومیٹک بریکنگ سسٹم کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے لیے سیاسی چیلنج

یہ ہولناک حادثہ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے لیے انتہائی حساس اور کڑے سیاسی وقت پر پیش آیا ہے، جنہوں نے حال ہی میں 29 نومبر کو ملک میں قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم سانچیز نے حادثے میں جان بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطحی اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔ الیکشن سے چند ہفتے قبل پیش آنے والے اس سانحے پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور ریلوے انتظامیہ کی غفلت پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے