پشاور: توہینِ رسالت کا جرم ثابت ہونے پر افغان شہری ملا دین کو سزائے موت کا حکم

Phansi ghat

پشاور — 28 اکتوبر، 2026 — پشاور توہین رسالت افغان شہری کے اہم اور حساس مقدمے میں پشاور کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج رفیع اللہ نے جرم ثابت ہونے پر افغان شہری ملا دین کو سزائے موت اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی باضابطہ سزا سنا دی ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو عدالتی رپورٹس سے حاصل ہوئی ہیں۔

حیات آباد واقعے کا پس منظر اور قانونی کارروائی

استغاثہ کی جانب سے عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، افغان شہری ملا دین پر الزام تھا کہ اس نے 5 اگست 2022 کو پشاور کے تھانہ حیات آباد کی حدود میں توہینِ رسالت پر مبنی انتہائی نازیبا الفاظ ادا کیے۔ واقعے کے فوراً بعد مقامی شہریوں نے ملزم کو موقع پر ہی قابو کر کے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

حیات آباد پولیس نے ملزم کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-C کے تحت مقدمہ درج کر کے مکمل تفتیش کی اور چالان متعلقہ عدالت میں جمع کروایا، جس کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوا۔

گواہان کے بیانات اور عدالتی فیصلہ

کیس کی سماعت کے دوران استغاثہ نے گواہان کے بیانات، فرنزک شواہد اور دیگر اہم ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیے جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا:

  • سزائے موت کا حکم: ایڈیشنل سیشن جج رفیع اللہ نے تمام شواہد اور گواہوں کی شہادتوں کی روشنی میں ملزم ملا دین کو جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ مجرم کو قانون کے مطابق اس وقت تک پھانسی پر لٹکایا جائے جب تک اس کی موت واقع نہ ہو جائے۔

  • جرمانہ اور قید کی سزا: سزائے موت کے ساتھ ساتھ مجرم پر 1 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں مجرم کو مزید 6 ماہ قیدِ سخت بھگتنا ہوگی۔

عدالتی فیصلے کے بعد مجرم کو سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ قانون کے مطابق مجرم کے پاس پشاور ہائی کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق موجود ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے