ریاست اور ملکی سالمیت کیس: اقرار الحسن 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر NCCIA کے حوالے

1791882018005

​لاہور سے حراست میں لیے گئے معروف صحافی اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا، جہاں عدالت نے 14 روزہ استدعا کے مقابلے میں 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

​کراچی کی مقامی عدالت (جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی) نے ریاست اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور پیکا (PECA) ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں نامزد معروف صحافی اور عوام راج تحریک کے بانی اقرار الحسن کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ امید نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ملزم کو سٹی کورٹ میں پیش کر کے تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے 4 روز کا ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو ایجنسی کی تحویل میں دے دیا۔
​
سماعت کے دوران فاضل جج نے اقرار الحسن سے استفسار کیا کہ کیا ان پر دورانِ حراست کسی قسم کا تشدد کیا گیا ہے؟ جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان پر کوئی تشدد یا مار پیٹ نہیں کی گئی۔ وکیل سے متعلق سوال پر ملزم نے جواب دیا کہ انہوں نے فی الوقت اپنا کوئی قانونی نمائندہ یا وکیل مقرر نہیں کیا۔
​
امید نیوز کی رپورٹ کے مطابق اقرار الحسن کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً رات 2 سے 3 بجے کے درمیان لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے تحویل میں لیا گیا۔ اہلخانہ اور سینئر صحافی وسیم بادامی کے مطابق کارروائی میں سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد اور خواتین اہلکار بھی شامل تھیں جن کے بیجز پر این سی سی آئی اے (NCCIA) تحریر تھا۔ اہلخانہ کے مطابق ابتدائی 30 گھنٹے تک انہیں حراست کی جگہ اور قانونی حیثیت کے بارے میں علم نہیں تھا۔
​
ایجنسی کی جانب سے ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 101/2026 درج کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان پر خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی تجاویز پر تنقید سمیت ریاست اور ملکی سالمیت سے متعلق متنازع بیانات دینے کے الزامات ہیں۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ریمانڈ کے دوران تفتیش کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے