عسکری و سیاسی قیادت کا فیصلہ: دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور رہیں

Rana Sanaullah

رانا ثناء اللہ کا اعلان: احتجاج پشاور، مردان یا دیگر شہروں میں کیے جائیں، دارالحکومت میں اجازت نہیں

اسلام آباد (امید نیوز) — وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے جمعہ 2 اکتوبر 2026 کو کہا ہے کہ عسکری قیادت اور وفاقی حکومت نے طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کرنا ہے تو پشاور، مردان یا کسی دوسرے شہر میں کیا جائے، لیکن اسلام آباد سے دور رکھا جائے۔
رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ایک خلاف ورزی ہے اور اسے اسلام آباد میں لانے کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے کچھ عرصہ قبل ہی یہ فیصلہ کیا تھا کہ احتجاجی دھرنوں کو دارالحکومت سے دور رکھا جائے۔ یہ لاہور، کراچی یا پشاور میں کیے جا سکتے ہیں، لیکن یہاں بالکل اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کہا کہ پرتشدد احتجاج کے بجائے سیاسی طریقہ کار اپنایا جائے اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی حکومت کے ساتھ سو فیصد تعاون کیا جائے۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق اگر خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی یا امن و امان کے معاملات میں تعاون نہیں کرتی تو گورنر راج اور ایمرجنسی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔
امید نیوز کے مطابق یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کے جوان روزانہ دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں اور صوبائی حکومت کا رخ اگر دوسری طرف ہو تو اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں ہو سکتی۔
حکومتی موقف کے مطابق پرامن احتجاج آئینی حق ہے لیکن دارالحکومت میں امن و امان اور سفارتی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے محدود رکھا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ تمام ضروری قانونی اور حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے