پابندیوں سے عالمی ضابطوں کو بائی پاس کرنے تک

Trump and khamnai

نئے عالمی نظام کا ظہور؟ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ نے دہائیوں پرانے بین الاقوامی اصولوں کو ہلا کر رکھ دیا

نیویارک/ تہران: مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ عسکری ٹکراؤ کو ماہرینِ سیاسیات ایک نئے عالمی نظام (New World Order) کی ابتدائی بڑی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ اس جنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وہ تمام بین الاقوامی ضابطے اور سفارتی اصول اپنی اہمیت کھوتے دکھائی دے رہے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد سے عالمی رویوں کو منظم کرتے چلے آ رہے تھے۔
عالمی اداروں اور قانون کا گرتا ہوا اثر
تاریخی طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ اور سفارت کاری کا محور اقوامِ متحدہ جیسے ادارے اور بین الاقوامی قوانین کا ڈھانچہ رہا ہے۔ ماضی میں اگر حکومتیں ان قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتی تھیں، تو وہ اپنی فوجی کارروائیوں کو قانونی جواز دینے کے لیے بین الاقوامی اتحادوں اور سفارتی مشاورت کا سہارا لیتی تھیں۔ تاہم، حالیہ پاک و ہند اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال میں یہ تمام عوامل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
موجودہ سٹریٹجک فیصلے اب کسی عالمی فریم ورک کے بجائے خالصتاً فوجی برتری، سیاسی مفادات اور سکیورٹی کیلکولیشنز (حساب کتاب) کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرانا عالمی نظام دم توڑ رہا ہے۔
ایران: پابندیوں کے سائے میں بقا کا فن
اس بدلتے ہوئے نظام میں ایران کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔ ایران کے لیے بین الاقوامی ضابطوں سے ہٹ کر کام کرنا کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ کئی دہائیوں سے سخت ترین پابندیوں اور سیاسی تنہائی کا شکار رہنے کے باوجود، تہران نے ایسے پیچیدہ نیٹ ورکس اور معاشی طریقے وضع کر لیے ہیں جو عالمی قوانین کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عالمی برادری کی جانب سے عائد کردہ وسیع پابندیوں کے باوجود ایران نہ صرف اپنا تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہا ہے بلکہ اس نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ ‘بائی پاس حکمتِ عملی’ اب نئے عالمی نظام کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے جہاں ریاستیں بین الاقوامی دباؤ کے بجائے اپنے خود ساختہ راستوں پر چلنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔
مستقبل کا منظر نامہ
موجودہ جنگ صرف زمین یا سرحدوں کی نہیں، بلکہ اصولوں کی تبدیلی کی جنگ معلوم ہوتی ہے۔ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کا یہ ٹکراؤ اسی ڈگر پر چلتا رہا، تو مستقبل قریب میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ‘قانون’ کے بجائے ‘طاقت’ اور ‘سٹریٹجک حساب کاری’ پر استوار ہو جائے گی، جو کہ ایک نئے اور غیر یقینی ورلڈ آرڈر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے