جہاں ٹرک بھی کانپے!
جی ایم ایم روڈ خانپوربگاشیر… جہاں ٹرک بھی کانپے!
تحریر: سـردار زین خـان
کہتے ہیں:
"سڑک اچھی ہو تو منزل خود چل کر آتی ہے،”
لیکن خانپور بگاشیر کی "ایم ایم روڈ” ایسی سڑک ہے کہ اگر آپ منزل تک پہنچ گئے، تو سمجھ لیں آپ درویش ہیں، مجاہد ہیں یا کم از کم شوہرِ مظلوم تو ضرور ہیں!
یہ وہ شاہکار روڈ ہے جسے دیکھ کر گوگل میپ نے کئ بار خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے، اور ایکسیڈنٹ ایپ نے نوکری چھوڑ دی ہے۔
چار سال پہلے کسی نے کہا تھا:
"سیوریج نظام بیٹھ گیا ہے!”
مگر جو سڑک اُٹھی نہیں، وہ بیٹھے ہوئے نظام کو کیا سہارا دیتی؟
آج کی حالت یہ ہے کہ اگر آپ ایک گڑھے میں گریں، تو اگلا شخص آپ کو وہاں سے نکالنے کے بجائے بولتا ہے:
"او بھائی، تُو بھی یہاں؟ میں بھی کل گرا تھا، نیچے وائی فائی بھی نہیں آتا!”
طالب شاہ موڑ تا سن ریز مل — ایک ایڈونچر!
یہ پورا ٹکڑا ایسا ہے جیسے Discovery Channel کی ڈاکومنٹری ہو:
"Surviving the Road – Khanpur Edition”
ڈرائیور حضرات اب دعائیں پڑھ کر، انشورنس پالیسی چیک کر کے، اور آخری وسیعت لکھ کر گاڑی سٹارٹ کرتے ہیں۔
جگہ جگہ گڑھے ایسے پڑے ہیں جیسے زمین نے ہنر سیکھا ہو، اور کہا ہو:
"چلو میں بھی کچھ تھری ڈی بنا لوں!”
بس فرق یہ ہے کہ یہاں تھری ڈی کی بجائے "گھُٹنے ٹوٹ” ہو جاتے ہیں
فیکٹریاں، فارم، اور مقدر کا کھیل
اس علاقے میں ملز کی قطاریں لگی ہیں، کاروباروں کی بھرمار ہے، اور فارم ایسے کہ بندہ سوچے
"اتنے فارم تو فارم ہاؤس میں بھی نہیں ہوتے!”
مزدور صبح فیکٹری پہنچے تو مالکان حیران
"اوئے! تُو بچ گیا؟ سڑک تو تیرے حق میں نہ تھی!”
کچھ فیکٹری مالکان نے تو اب پروڈکشن بند کر کے پینچر کی دکان ڈالنے کا سوچ رکھا ہے — کیونکہ ہر آنے والی گاڑی پہلے پینچر ہو کر اُن سے ملنے آتی ہے۔
دکاندار کی دہائی
ایک پرانے دکاندار سے پوچھا:
"کیا حال ہے کاروبار کا؟”
کہنے لگا:
"بس یار، اب گاہک آتا ہے تو پہلے معذرت کرتا ہے کہ دیر ہو گئی، سڑک پر ہی 3 بار ہچکولا کھا گیا تھا!”
دوسرا دکاندار بولا:
"ارے بھائی ہم نے ریٹ لسٹ کے ساتھ دعاؤں کی لسٹ بھی لگائی ہوئی ہے۔
طالب علم اور گرد آلود تقدیر
اب آتے ہیں بیچارے طالب علموں کی طرف، جو صبح ماں کی دعا اور گڑھے کی پرواہ کے بغیر نکلتے ہیں، سکول اور کالج پہنچتے ہی لگتا ہے جیسے ریگستانی طوفان سے ہو کر آئے ہوں۔
کپڑے خاک آلود، جوتے بد رنگے، اور موڈ ایسا کہ پوچھو مت!
کبھی ہائی ایس بھی بڑے شوق سے چلتی تھی، اب وہ بھی کہتی ہے:
"ہم تو عزت دار گاڑی ہیں، ہمیں معاف کروں، ہمارا ایم ایم روڈ سے کوئی واسطہ نہیں!”
بچوں کو رشکے میں بٹھایا جاتا ہے، وہ بھی ایسے رشکے کہ ان میں ٹائر کم اور دعا زیادہ کام آتی ہے۔ ایک طالب علم نے تو کہا:
"بھائی جی، یہ رِشکا نہیں، عذاب کا رکشہ ہے!”
دربارِ پیر بابا بگاشیر
اب زرا ذکر ہو جائے حضرت پیر بابا بگاشیر کا، جن کے دربار پر ہزاروں زائرین حاضر ہوتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ کچھ زائرین پہنچنے سے پہلے ہی سڑک کے گڑھوں میں "نذر” ہو جاتے ہیں۔
ایک صاحب نے تو منت مانی تھی کہ اگر خیریت سے پہنچ گئے، تو چاول کی دیگے پکاوں گا!
چوروں کی ترقی
اب چوریوں کی نئی تکنیک آئی ہے۔ چور گڑھوں کے قریب بیٹھ جاتے ہیں، اور جیسے ہی موٹر سائیکل سست روی سے گزرتی ہے، وہ کہتے ہیں:
"سلام علیکم، موبائل نکالو اور گڑھے کو قصور وار ٹھہراؤ!”
ایک چور پکڑا گیا تو بولا:
"ہم چور نہیں، سڑک کے کمیٹی کے نمائندے ہیں!”
ایم پی اے صاحب اور ان کا سایہ
جہاں تک ایم پی اے صاحب کی بات ہے، تو اس علاقے کی عوام کو ان کے ایم پی اے تک کا پتا نہیں ہے۔ وہ کون ہے، کیسا ہے ، کیا چاہتا ہے، کسی کو علم نہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ بھی ایک دن گڑھے میں گرے تھے، تب سے واپس نہیں آئے۔
نظم برائے سڑک زادگانِ خانپور
؎
سڑک پہ گڑھے ہیں یا خوابوں کے زخم،
چلتے ہیں لوگ جیسے مجرم ہوں ہم۔
دربار ہے، زائرین کا ہجوم،
مگر راستہ؟ ہے ایک اندھی دھند دھوم۔
نہ فیکٹری میں مزدور وقت پہ جائے،
نہ طالب علم وقت پہ کچھ پائے۔
تاجر بیٹھا، گاہک کا منہ تکتا ہے،
سرکار فقط وعدوں کا پُل بَنتا ہے۔
اے پیر بابا! دعا کیجیے ذرا،
یہ سڑک بن جائے خوابوں جیسا خَطا۔
ورنہ ہم خود پتھر ہو جائیں گے،
اور گڑھوں سے وفا نبھائیں گے
اختتامی گڑھا (معذرت، نوٹ):
خانپور بگاشیر کے معزز عوام اب حکومت سے اپیل نہیں کرتے، بلکہ التجا کرتے ہیں:
"خدارا! یہ روڈ ہمارا قصور نہیں، سزا کیوں دے رہے ہو؟”
ورنہ کل کو ہم اپنے بچوں کو سڑک کی بجائے "پیراشوٹ” دے کر سکول بھیجا کریں گے۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔