بچپن کی عید جوانی کی عید
بچپن کی عیدیں — پیسہ کم، محبت زیادہ
جوانی کی عیدیں — پیسہ زیادہ، محبت کم
تحریر: سردار زین خان
یہ محض دو جملے نہیں بلکہ دو مختلف دنیاؤں کی تصویر ہے۔
بچپن میں نہ مہنگے کپڑے ہوتے تھے، نہ رنگ برنگی بوتلیں، نہ بھاگ بھاگ کر تصویریں کھنچوانے کا شوق — لیکن دل میں خلوص، چہرے پر خوشی، اور رشتوں میں سچائی ضرور ہوتی تھی۔
اور آج؟
کپڑے مہنگے، دسترخوان وسیع، موبائل ہاتھوں میں، لیکن آنکھیں خالی، دل بوجھل، اور محبت مصنوعی۔
ایک ایسا وقت آ گیا ہے جہاں رشتے صرف مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں، اور عزت صرف اُس شخص کی ہے جس کی جیب بھری ہو۔
یہ کیسا دور ہے؟
بھائی، بھائی کا مخالف
بیٹا، باپ سے بدظن
دوست، حسد کا شکار
اور ہم… صرف پیسے کے ترازو میں انسانوں کو تولنے لگے۔
کیا انسانیت، خلوص، اخلاق، صبر، برداشت — یہ سب صرف کتابوں کے الفاظ رہ گئے ہیں؟
کیا آج واقعی پیسہ ہی سب کچھ ہے؟
اگر ہاں… تو وہ بوڑھی ماں جو اپنے بچوں کو پالتے ہوئے خود بھوکی رہ گئی، اُس کی کیا قیمت لگائی جائے؟
وہ باپ جو جوانی کی راتیں مزدوری میں جلا آیا، اور بڑھاپے میں تنہائی کا شکار ہے — وہ کس بازار میں بکے گا؟
وہ یتیم بچہ جو گوشت کے ایک لقمے کو ترس رہا ہوتا ہے — اس کی دعاؤں کا وزن کیا پیسے سے ناپا جا سکتا ہے؟
اب بھی…
ہمارے اردگرد کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ محبت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔
میرے والد صاحب اُن ہی لوگوں میں سے ایک ہیں — نہایت خوش مزاج، مہربان، عاجزی سے بھرپور۔
ان سے ملنے والا ہر شخص اُن کے اخلاق اور شفقت سے متاثر ہوتا ہے۔ اُن کے در پر آنے والے مہمان کبھی خالی دل واپس نہیں جاتے۔
میں ربِ ذوالجلال سے دعا گو ہوں کہ میرے والد محترم کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے، اور ہمیں بھی ان جیسا دل عطا فرمائے جو انسان کو اس کے دل سے پہچانے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی…
ہم نے خوشیوں کو "دکھاوے” کی نظر کر دیا ہے۔
عیدالاضحیٰ، جس کا مقصد ایثار، قربانی اور بھائی چارہ سکھانا ہے — وہ بھی آج صرف گوشت کے ذخیرے اور تصاویر کے کھیل میں بدل چکی ہے۔
ہمارے ہاں اکثر گھرانوں میں قربانی صرف اپنے گھر کی پلیٹ تک محدود ہے۔ آس پاس کے وہ چہرے جنہیں گوشت سال میں شاید ایک بار نصیب ہوتا ہے، وہ نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
اور اگر کسی امیر کے ہاں چلے جائیں، تو وہ بوتل کا پانی پلا کر بھی تصویریں بنواتا ہے — یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ اُس نے "غریب پر احسان” کر دیا۔
جبکہ ایک غریب کے گھر جاؤ، تو وہ چاہے کچھ بھی نہ رکھتا ہو، اپنے حصے کا بہترین نوالہ مہمان کے سامنے رکھتا ہے۔ بار بار پوچھتا ہے:
"کوئی کمی تو نہیں رہ گئی؟”
یہ فرق ہے دل کی دولت اور جیب کی دولت میں۔
ہمیں سوچنا ہو گا:
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
ہم عید کو کتنا خود غرض اور مطلبی بنا چکے ہیں؟
یہ عید صرف جانور کی قربانی نہیں — یہ نفس کی قربانی ہوتی ہے، غرور، لالچ، حسد اور بےحسی کو ختم کرنے کی قربانی ہے۔
عید کے دنوں میں خوشی بانٹی جاتی ہے، خلوص پیش کیا جاتا ہے، اور محبت تقسیم کی جاتی ہے — یہی وہ اصل جذبہ ہے جو عید کو "عید” بناتا ہے۔
آئیے!
اپنی عید کو صرف خود کے لیے نہ رکھیں…
کسی دوسرے کے لیے بھی عید بنا دیں۔
ایک پلیٹ گوشت، ایک مسکراہٹ، ایک حال چال…
کسی کی عید، آپ کے ایک چھوٹے سے عمل سے روشن ہو سکتی ہے۔
کیونکہ یاد رکھیں:ffs
اللہ کے ہاں نہ گوشت جاتا ہے، نہ خون — صرف دل کا تقویٰ قبول ہوتا ہے۔
(سورۃ الحج، آیت 37)
دل کی گہرائیوں سے نکلی ایک گزارش… شاید کسی دل تک پہنچ جائے۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blogs@umeednews.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔