پاکستانی ڈرامے ؛ خلاقی بگاڑ کا سبب؟
پاکستانی ڈرامے: ثقافتی فروغ یا نوجوان نسل کے اخلاقی بگاڑ کا سبب؟
تحریر پروفیسر شفیع اللہ خان
تعارف
پاکستانی ڈرامے گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی پیمانے پر بھی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ یہ ڈرامے پاکستانی معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ڈرامے ہماری ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں یا نوجوان نسل کے اخلاقی اقدار کو متاثر کر رہے ہیں؟ اس بحث میں دونوں پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
پاکستانی ڈراموں کا ثقافتی فروغ
1. پاکستانی تہذیب و روایات کی عکاسی
پاکستانی ڈراموں نے اپنے ابتدائی دور میں معاشرتی مسائل، خاندانی اقدار اور روایتی رسم و رواج کو بہترین انداز میں پیش کیا۔ ڈرامے جیسے **”ان کہی”، "داستان”، "الف اللہ اور انسان”** وغیرہ نے پاکستانی کلچر کی خوبصورتی کو اجاگر کیا۔ ان ڈراموں میں خاندانی یکجہتی، عزت و احترام اور اخلاقی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
2. معاشرتی مسائل پر روشنی
کئی ڈراموں نے معاشرے کے حساس موضوعات جیسے جہیز، گھریلو تشدد، بچوں کی شادیاں اور صنفی مساوات کو بے نقاب کیا۔ مثال کے طور پر **”عروسہ”، "خواہش”، "بے قرار”** جیسے ڈراموں نے عورتوں کے حقوق اور ان کے مسائل کو اجاگر کرکے معاشرے میں شعور بیدار کیا۔
3. پاکستانی کلچر کی بین الاقوامی پذیرائی
پاکستانی ڈرامے ترکی، ایران، بھارت اور مشرق وسطیٰ میں بھی بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ یہ ڈرامے پاکستان کی ثقافت، زبان، رہن سہن اور تہذیب کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں، جس سے ملک کی نرم طاقت (Soft Power) میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی ڈراموں کے منفی اثرات
1. غیر اخلاقی مواد کی نمائش
حالیہ برسوں میں پاکستانی ڈراموں کے معیار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئی ڈراموں میں غیر ضروری رومانوی مناظر، جنسی اشارے اور عریانی کا رجحان بڑھا ہے۔ ڈرامے جیسے **”چھوٹی”، "بڑی”، "میں نے چاند کو دیکھا”** وغیرہ میں نوجوانوں کو غیر اخلاقی رویوں کی ترغیب دی گئی۔
2. خاندانی نظام کا بگاڑ
پہلے کے ڈراموں میں خاندانی اتحاد کو اہمیت دی جاتی تھی، لیکن اب کئی ڈراموں میں طلاق، بے وفائی اور خاندانی تنازعات کو رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، جس سے نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔
3. مادیت پرستی اور نمود و نمائش کا فروغ
جدید پاکستانی ڈراموں میں امیر طبقے کی عیاشی، لاکھوں روپے کے کپڑے اور غیر ضروری شاپنگ کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اس سے نوجوان نسل پر مادیت پرستی کا رجحان بڑھ رہا ہے اور وہ حقیقی زندگی میں ایسی ہی عیاشی کی خواہش کرنے لگے ہیں۔
4. نفسیاتی مسائل میں اضافہ
کئی ڈراموں میں ڈپریشن، خودکشی اور مایوسی کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ نوجوان لڑکیاں اور لڑکے ان منفی کرداروں سے متاثر ہو کر اسی طرح کے جذباتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
ماہرین نفسیات اور سماجیات کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرامے معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں، لیکن اگر ان میں توازن نہ ہو تو یہی ڈرامے معاشرے کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ ملک (ماہر نفسیات) کے مطابق:
"نوجوان ذہن بہت حساس ہوتا ہے، اگر ڈراموں میں منفی رویوں کو نارمل بنا کر پیش کیا جائے گا تو نوجوان اسے حقیقی زندگی میں اپنائیں گے۔ ”
ڈراما انڈسٹری کی ذمہ داری
ڈراما سازوں، مصنفین اور ہدایت کاروں کو چاہیے کہ وہ معیاری اسکرپٹس پر کام کریں جو نہ صرف تفریح فراہم کریں بلکہ معاشرے کو مثبت پیغامات بھی دیں۔ پی ٹی وی کے کلاسیکل ڈراموں کی طرح آج بھی ایسے پروگرامز بنائے جا سکتے ہیں جو ثقافتی اقدار کو فروغ دیں۔
نوجوان نسل اور والدین کا کردار
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو ڈراموں کے مثبت اور منفی پہلوؤں سے آگاہ کریں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو صحیح اور غلط کی تمیز سکھانا انتہائی ضروری ہے۔
حکومتی پالیسی اور ریگولیشن
حکومت کو چاہیے کہ وہ میڈیا کے لیے واضح رہنما اصول بنائے اور ایسے ڈراموں پر پابندی لگائے جو معاشرتی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں۔ پیمرا جیسے اداروں کو چاہیے کہ وہ ڈراموں کے مواد کا سختی سے جائزہ لیں۔
نتیجہ
پاکستانی ڈرامے ایک طرف ہماری ثقافت اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرکے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن دوسری جانب اگر ان میں غیر اخلاقی مواد شامل ہو تو یہی ڈرامے نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈراما انڈسٹری اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور معاشرے کو مثبت پیغامات دے۔ ساتھ ہی نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ وہ ڈراموں کو صرف تفریح کے لیے دیکھیں، نہ کہ اپنی زندگی کا رول ماڈل بنائیں۔
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔