کھیلوں کا شہر، سہولیات کا صحرا

Sharaz Bhai col

پاکستان کا نام روشن کرنے والے کھیل کے ستارے ڈوبنے لگے
تحریر : محمد شیراز بشیر

مشہور قول ہے کہ “ جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوں تو ان کے ہسپتال ویران ہوں گے اور جس ملک کے کھیل کے میدان ویران ہوں تو ان کے ہسپتال آباد ہوں گے “یہی وجہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اکیڈمک ایجوکیشن کی طرح فزیکل ایجوکیشن کے کلیدی کردار کو بھی تسلیم کیاجاتا ہے زمانہ قدیم سے ہی مختلف قسم کے کھیل اور صحت مندانہ سرگرمیاں کروائی جاتی رہی ہیں تاکہ بچوں کو صحت مند بنا کر مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ صحت مند بچے ہی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے سکولز میں جسمانی تعلیم اور کھیلوں پر زور دینے کی ضرورت ہے.


مظفرگڑھ کی سرزمین سے کھیل کے میدان میں ملکی و غیرملکی سطح پرکئی کھلاڑی پاکستا ن کا نام روشن کرچکے ہیں ۔ پاکستان کا نام روشن کرنے کا عزم ان نوجوان کھلاڑیوں کا جوش کم نہیں ہونے دیتا یہی وجہ ہےکہ زیادہ تر کھلاڑی محدود وسائل ،بے روزگاری اور غربت کے ساتھ جنگ بھی لڑ رہے ہیں ۔ اکثر کھلاڑی روزگار اور وسائل نا ہونے کی بنا پر کھیل کا میدان چھوڑ چکے ہیں ، کچھ نامور کھلاڑیوں جو تعلیم یافتہ تھے انہیں مختلف محکمہ جات میں ملازمت مل چکی ہیں اکثر کھلاڑی ناخواندگی کی وجہ سے بےروزگار رہ گئے کوئی محکمہ ملازمت نہیں دیتا ۔مظفرگڑھ کے ٹیلینٹ کی بات کی جائے توکچھ عرصہ قبل ہونے والی نیشنل گیمز پشاور میں مظفرگڑھ کے لڑکیوں اور لڑکوں نے جمناسٹک ، اتھلیٹکس ،ریسلنگ ، ووشواور رگبی میں 17 گولڈ ، 4سلور اور 4 براونس میڈل حاصل کئے ۔ ساجدحسین نے نیپال میں ووشوگیم میں انڈیا کو ہرا کر گولڈ میڈل حاصل کیا ، انٹرنیشنل اتھلیٹکس کوچ یامین راہی کا کہنا ہے کہ وسائل نا ہونے کی بنا پر کھلاڑی کیمپ میں شرکت نہیں کرسکے. پنجاب سپورٹس بورڈ نے ہرکھیل کی الگ ایسوسی ایشن نامزدکی ہوئی ہے، لیکن ان تنظیموں کی شکایات بھی کوئی نہیں سنتا، ایسوسی ایشن علاقائی طور پر چندہ جمع کرکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ سے چلا آرہا ہے اکثر کھلاڑیوں کا تعلق غریب گھرانو ں سے وہ دوسرے شہر جانا پھر وہاں رہائش وغیرہ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ۔ مظفرگڑھ میں 25 انٹرنیشنل خواتین کھلاڑی ہیں انکے لئے الگ سے پریکٹس کرنے کی جگہ ہی موجود نہیں ۔ کھلاڑی اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے ٹورنامنٹ کھیلنے جاتے ہیں ، یامین راہی کا کہنا ہے کہ سکولوں میں کھلاڑیوں کو تیار کرنا چاہیے ہر سکول ایک کھلاڑی بھی تیار کرے تو سینکڑوں کھلاڑی تیار ہوسکتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جاتا سکولوں کا سپورٹس فنڈزنکلوالیا جاتا ہے ،

فٹبال ایوسی ایشن کے صدر چوہدری نور عالم کہتے ہیں کہ ملتان روڈ پر واقع سپورٹس گراونڈ میں ایک بہت خوبصورت فٹبال کا گراونڈ تھا جہاں نیشنل لیول کے فلڈلائٹ ٹورنامنٹ منعقد کئے جاتے تھے ۔ پاک فائیٹرفٹبال کلب مظفرگڑھ کا نام سندھ اور بلوچستان تک مشہور تھا ، کراچی حیدرآباد کی نامور ٹیمیں یہاں میچ کھیلنے آتی تھیں۔ لیکن آج یہ عالم ہے کہ فٹبال گراونڈ تباہ ہوچکا ہےگزشتہ 10 سال سے ایک روپے کا فنڈز فٹبال گراونڈ پر نہیں لگا گھاس کا نام ونشام مٹ چکاہے ، درجنوں بار محکمہ سپورٹس پنجاب کو درخواست کرچکےہیں لیکن کوئی سننے کو تیار نہیں ، آہستہ آہستہ فٹبال گراونڈ پر کرکٹ کا قبضہ ہوچکا ہے مظفرگڑھ کو ہر سال تقریباً 60 لاکھ روپے فنڈز پنجاب سپورٹس بورڈ کی جانب سے دیا جاتا ہے لیکن اسکے استعمال پر کھلاڑی مطمئن دکھائی نہیں دیتے ۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر طارق خانزادہ کا کہنا ہے کہ شیڈول کےمطابق ایونٹٹس پر منصفانہ طور پرتمام کھیلوں کے لئے فنڈز استعمال کیا جاتا ہےمیں خود بھی انٹرنیشنل اتھلیٹ اور اولمپک کمیٹی کا کوچ بھی ہوں حقیقت تو یہی ہے جب تک کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی اخراجات نہیں دئیے جائیں گےآگے نہیں جاسکتے کئی دہائیوں سے ایسا ہی چلا آرہا ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے ،لیکن اب حکومت پالیسی بنا رہی ہے امید ہےکہ کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا جائے گا۔کھلاڑیوں کو محنت جاری رکھنی چاہئے ، کرکٹ کے کھیل کو کرکٹ بورڈ دیکھتا ہے ہم دیگر کھیلوں پر فوکس کرتے ہیں لیکن مظفرگڑھ فیصل اسٹیڈیم میں ہم نے کرکٹ کے کھلاڑیوں کو گراونڈ میں پچ کی سہولیات دی ہوئی ہیں ، گزشتہ 3ماہ سے فنڈز نہیں ہیں کرونا کی وجہ سے فنڈز کلوز کرلئے گئے ہیں بس عملہ کی تنخواہیں مل رہی ہیں۔ فنڈز کے استعمال کی تفصیلات کے لئے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے درخواست دی جس پر ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر نے سپورٹس بورڈ سے اجازت کے بعد ریکارڈ فراہم کیا جائے گا۔


مظفرگڑھ کرکٹ سپر لیگ کے چئیرمین محمداجمل چانڈیہ کاکہنا ہے کہ ہم نے فیصل سٹیڈیم کا گراونڈ خؤدتیارکیا اسکی حفاظت بھی خود کرتے ہیں ،محکمہ سپورٹس کی کارکردگی مایوس کن ہے فیصل اسٹیڈیم ایک پبلک گراونڈ ہے لیکن اسکے استعمال پر فیس عائد کردی گئی رجسٹرڈ کلب سے 2ہزار اور غیررجسٹرڈ کلب کے ٹورنامنٹ پر 5ہزار روپے روزانہ کے حساب سے فیس عائد ہے ،
سماجی شخصیت ملک عامر رضاملانہ کاکہناتھا کہ مظفرگڑھ کے کھلاڑیوں نےکھیل کی دنیا میں ہمیشہ پاکستان کا نام روشن کیاہےپنجاب سپورٹس بورڈ کو اپنی پالیسوں میں تبدیلی لانی ہوگی ، غریب اور بے روزگار کھلاڑیو ں کا ماہانہ وظیفہ مقرر کیاجائے، میڈلز ہولڈر کھلاڑی جن کی تعلیم کم ہے انہیں سرکاری ملازمت فراہم کی جائے ۔ فنڈز کو شفاف طریقے سےکھلاڑیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا لائحہ عمل بنایاجائے ،مظفرگڑھ میں خواتین کھلاڑیوں کا کوئی پرسان حال نہیں انہیں قواعدوضوابطہ کے مطابق سہولیات دستیاب نہیں ۔
کبڈی کی خاتون کھلاڑی نے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتایا کہ ہم جمناسٹک کے کھیلوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور کبڈی بھی کھیلتے ہیں ، فیصل اسٹیڈیم سے ملحقہ ہم ایک 15 مرلہ کا پلاٹ ہمیں پریکٹس کے لئے دیا ہوا ہے، پلا ٹ کی کوئی چار دیواری یا پردے کا انتظام نہیں ہے پریکٹس کے لئے نہایت دشواری کا سامناکرناپڑتا ہے وارم اپ کے لئے فیصل اسٹیڈیم کے عقب میں جا نا پڑتا ہےمشکلات کے باوجود ہماری خواتین کی ٹیم کئی بار گولڈ میڈل جیت چکی ہے۔ اپنے شہر اور ملک کا نام روشن کرنے کے باوجود ہمیں حکومت سہولیات فراہم نہیں کرتی ، کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وسائل نا ہونے کی وجہ سے ہمارے کھلاڑی ایونٹ میں شریک ہی نہیں ہوسکتے۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انڈر 16 بچیوں کے لئے خورشید آباد گرلز ہائی سکول کا گراونڈ استعمال کرنے کی اجازت دی ہوئی ہے، اسی گراونڈ میں خواتین کے کھیلوں کا ٹورنامنٹ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔
رگبی کے ایک کھلاڑی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مظفرگڑھ میں سپورٹس فنڈز کھلاڑیوں پر خرچ نہیں ہوتا بلکہ کاغذات میں جعلی ایونٹس ظاہر کرکے ہر سال فنڈز خوردبرد کیا جاتا ہے ، مظفرگڑھ میں گزشتہ 15 سال سے تربیتی کیمپ منعقد نہیں ہوا ۔ تربیتی کیمپ میں شرکت کرنے والے کھلاڑی کا 400 روپے اعزازیہ مقرر ہے لیکن وہ رقم بھی نکلوالی جاتی ہے ، مظفرگڑھ میں کھلاڑی بغیر سامان پریکٹس کرنے پر مجبور ہیں ، پول والٹ کے کھلاڑی گل فراز نے ہائی جپ لگا کر انٹرنیشنل ریکارڈ قائم کیا جبکہ مظفرگڑھ میں پول والٹ کے لئے میٹریس ، پول ، راڈ اور دیگر سامان دستیاب ہی نہیں ، میڈل لیکر آنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویربنواکرمظفرگڑھ کی انتظامیہ غائب ہوجاتی ہے،
سابق مشیر وزیراعلی ٰ پنجاب عبدالحئی دستی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صحت مند زندگی اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلئے سپورٹس اور یوتھ آفئیر کے نئے منصوبوں کے لئے بجٹ 2020-21 میں فنڈز مختص کیا گیا ۔ ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی میں 8کروڑ، تحصیل کوٹ ادو میں 4 کروڑ اور خانگڑھ میں 7کروڑ میں کرکٹ سٹیڈیم تیار کئے گئے۔ پنجاب میں 13 نئے تحصیل سپورٹس کمپلیکس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔، بلدیاتی اداروں کے کل فنڈز کی2فیصدرقم کھیل کے لئے مختص ہوگی ،
پنجاب سپورٹس بورڈ کے فنڈز کے ساتھ ساتھ بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں بھی کھیل کے شعبہ کےلئے فنڈز مختص ہوتے ہیں لیکن آج تک وہ فنڈز کھلاڑیوں تک نہیں پہنچ سکے سول سوسائٹی اور کھلاڑیوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت کھلاڑیوں کو سہولیات مہیا کرے اور فنڈز کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے

نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے