خرابی کہاں ہے؟

school-admission-post-education-square-1748872581574

مظفرگڑھ کی ترقی کا سوال: وسائل بھی ہیں، قیادت بھی — پھر خرابی کہاں ہے؟

✍️ تحریر: پروفیسر شفیع اللہ خان

مظفرگڑھ — ایک ایسا شہر جو تاریخ، ثقافت، زراعت اور سیاست کا امتزاج ہے۔ ایک ایسا خطہ جو دریائے چناب کے دامن میں آباد ہے اور اپنی زرخیزی کے باعث پورے جنوبی پنجاب کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے۔ یہاں کی مٹی نے جہاں فصلیں اگائیں وہیں قدآور سیاسی رہنما بھی پیدا کیے۔ اس کے باوجود یہ سوال آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: آخر مظفرگڑھ ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہ گیا؟

مظفرگڑھ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو کسی بھی خطے کی ترقی کا ضامن ہو سکتا ہے—قدرتی وسائل، تاریخی ورثہ، سیاسی نمائندگی اور ثقافتی شناخت۔ پھر بھی یہ شہر آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہے؟ اس کا جواب پیچیدہ ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

تاریخی اور ثقافتی ورثہ، جو نظر انداز ہو گیا

مظفرگڑھ کا نام تاریخ کے اوراق میں پرانا ہے۔ یہاں کا قدیم قلعہ، صوفی روایات، میلوں کی ثقافت، اور لوک موسیقی سبھی مظفرگڑھ کو شناخت عطا کرتے ہیں۔ یہاں کی ثقافت آج بھی زندہ ہے، مگر افسوس کہ ریاستی پالیسیوں میں اس ورثے کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔

سیاسی اثر و رسوخ: طاقتور خاندان مگر کمزور ترجیحات

یہ شہر کئی سیاسی خانوادوں کا گڑھ ہے۔ لغاری، کھوسہ، قریشی، دریشک، نواب اور گیلانی خاندانوں نے کئی بار قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مظفرگڑھ کی نمائندگی کی۔ وزرائے اعلیٰ، گورنر، وفاقی وزراء—سب کچھ اس دھرتی نے پیدا کیا۔ لیکن ان سب سیاسی شخصیات نے مظفرگڑھ کو صرف انتخابی حلقہ سمجھا، شہر نہیں۔

جب اقتدار میں آ کر بھی یہاں کے بنیادی مسائل حل نہ کیے جا سکیں، تو پھر سوال اٹھتا ہے: کیا سیاسی قیادت واقعی مظفرگڑھ کے لیے سنجیدہ ہے؟

ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں

1. موروثی سیاست اور ذاتی مفادات

یہاں سیاست عوامی خدمت کے بجائے خاندانی تسلسل اور ذاتی مفادات کی سیاست بن چکی ہے۔ فنڈز انہی علاقوں میں جاتے ہیں جہاں ووٹ ملتے ہیں، یا ذاتی اثاثے موجود ہوں۔

2. بدانتظامی اور ناقص بلدیاتی نظام

شہر کا نکاسی آب نظام ہو، سڑکوں کی حالت ہو یا کچرے کی صفائی، ہر طرف انتظامی نااہلی اور غیر منصوبہ بندی کا راج ہے۔

3. صنعت کا فقدان اور روزگار کی قلت

مظفرگڑھ کی صنعت صرف کاغذوں تک محدود ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر پھر رہے ہیں، لیکن ملازمتوں کے مواقع موجود نہیں۔ نتیجہ؟ یا تو ہجرت، یا مایوسی۔

4. تعلیمی اداروں کی زبوں حالی

سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں سہولیات کی کمی، اساتذہ کی غیر حاضری، اور معیاری تعلیم کا فقدان اس شہر کے روشن مستقبل کے راستے میں دیوار بنے ہوئے ہیں۔

5. وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عدم ترجیح

پچھلی کئی دہائیوں سے مظفرگڑھ کو ہمیشہ ‘نظر انداز شدہ’ علاقوں میں رکھا گیا۔ ترقیاتی منصوبے لاہور، ملتان، فیصل آباد تک محدود رہے، مظفرگڑھ صرف اعلانات میں شامل رہا۔

6. سول سوسائٹی اور میڈیا کی خاموشی

مقامی سطح پر سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار بھی محدود نظر آتا ہے۔ مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے مصلحتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کیا کوئی حل موجود ہے؟

جی ہاں، لیکن شرط یہ ہے کہ نیت صاف ہو اور عزم پختہ۔ اگر مظفرگڑھ کو ترقی یافتہ شہر بنانا ہے تو چند اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہیں:

مضبوط بلدیاتی نظام جو مقامی سطح پر فیصلے کر سکے۔

تعلیمی اصلاحات، خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ۔

انڈسٹریل زونز اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ کا قیام۔

زرعی اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی۔

نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ اور کاروباری پروگرامز۔

سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی۔

آخری بات

ترقی صرف سڑکوں یا عمارتوں سے نہیں آتی، بلکہ انصاف، تعلیم، روزگار، اور شفافیت سے آتی ہے۔ مظفرگڑھ کو درکار ہے ایک دیانت دار قیادت، بااختیار مقامی حکومت، اور باشعور عوام۔

یہ شہر آج بھی وقت کی صدا دے رہا ہے کہ:

; “مجھے میری پہچان واپس دو،
مجھے میرے خوابوں کا شہر بنا دو!”
اگر ہم سب—عوام، سیاستدان، بیوروکریسی، میڈیا—اپنا کردار ادا کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ مظفرگڑھ بھی ایک دن لاہور یا اسلام آباد کی صف میں نہ آ کھڑا ہو۔

نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے