ملیر جیل سے 100 سے زائد قیدی دیوار توڑ کر فرار، دوبارہ گرفتاری کیلیے کا آپریشن جاری

untitled-2025-06-03t022145-7961748899315-0-600x450

کراچی:ملیر کی ڈسٹرکٹ جیل سے 100 سے زائد قیدی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے جس کے بعد علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

پولیس کے مطابق قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوئے ہیں، ان کی دوبارہ گرفتاری کے لیے ملحقہ علاقوں میں پولیس، ایف سی اور رینجرز کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔
پولیس کے مطابق زلزلے کے باعث جیل کے بیرکس کی دیواروں میں دراڑ پڑ گئی تھی، جیل حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کی جھٹکوں کے دوران قیدیوں کو باہر نکالا گیا تھا اور قیدی وہاں جمع تھے کہ اسی دوران کچھ افراد نے ماڑی کا گیٹ توڑا اور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی جس پر مزید قیدی وہاں جمع ہوگئے اور وہاں پر افراتفری مچ گئی۔

کچھ قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے جبکہ قیدیوں کی گرفتاری کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے

کچھ قیدی جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوگئے جبکہ قیدیوں کی گرفتاری کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں سے 50 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے، پولیس کے مطابق فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جبکہ نیشنل ہائی وے کے دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے، اس دوران شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر مزید نفری طلب کرلی گئی ہے۔

ڈی آئی جی جیل حسن سہتو اور ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی کے مطابق صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ کچھ قیدیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی قیدیوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے فرار ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کیے جانے والے قیدی سکھن تھانے کے لاک اپ میں منتقل کر دیے گئے

شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس علاقے سے دور رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔

واضح رہے کہ آج رات 12:00 بجے لانڈھی، شیرپاؤ، قائد آباد اور محمد نگر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ متعدد گھروں کی دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں جبکہ خواتین، بزرگ اور بچوں نے پارک میں پناہ لے لی اورعلاقے کی مساجد میں اذانیں دی جانے لگیں جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں 11ویں بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کی خبروں کا نوٹس لے لیا اور آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ علاقے کو کارڈن آف کر دیا جائے۔

وزیر جیل کا کہنا تھا کہ فرار ہونے والے قیدی کو ہر حال میں پکڑا جائے، اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کا تعین کیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے