مظفرگڑھ یونیورسٹی،،دیرینہ مطالبہ آخر متنازع کیوں؟؟
مظفرگڑھ یونیورسٹی،،دیرینہ مطالبہ آخر متنازع کیوں؟؟
تحریر: محمد عدنان مجتبیٰ بھٹہ
مظفرگڑھ یونیورسٹی کے لیے ضلع بھر کی سیاسی،سماجی،مذہبی شخصیات اور شہریوں نے بھرپور آواز بلند کی،،ایک بنیادی حق کے حصول کے لیے سالوں جدوجہد ہوتی رہی،،مظفرگڑھ میں آنے والی اعلیٰ حکومتی شخصیات کے سامنے ضلع مظفرگڑھ کے میڈیا نے بھی بھرپور طریقے سے نہ صرف معاملہ اٹھایا بلکہ اس حوالے سے حکومتی یقین دہانیاں بھی حاصل کیں،،مگر اہل اقتدار کے دعوے ہمیشہ ہی کی طرح لغو اور جھوٹے ہی نکلے،،اہل مظفرگڑھ کو امید تھی کہ مظفرگڑھ میں یونیورسٹی کے قیام سے نہ صرف ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات کو بہترین اعلی تعلیم میسر آئیگی،بلکہ طلباء و طالبات کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے دیگر شہروں کا رخ بھی نہیں کرنا پڑے گا،،شہریوں کو امید ہوچلی تھی کہ مظفرگڑھ میں یونیورسٹی بننے سے شہریوں کو بھاری بھرکم فیسوں اور ٹرانسپورٹ اور رہائش کے بیش بہا اخراجات سے بھی نجات ملے گی،،
اب مظفرگڑھ میں بھی یونیورسٹی کے قیام کی امیدیں تو جاگ اٹھی ہیں،،تو کیا وجہ ہے کہ شہری خوشی کی بجائے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں؟؟؟ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگڑھ اور پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن مظفرگڑھ کے علاؤہ ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے مختلف شخصیات اس حوالے سے سوالات اٹھارہی ہیں اور سنگین نوعیت کے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں؟؟؟ تحفظات کی بنیادی وجہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں مجوزہ یونیورسٹی کا قیام ہے،،واضح رہے کہ تقریباً سو سال پرانے اس قدیمی کالج میں اسوقت انٹرمیڈیٹ اور 4 سالہ بی ایس پروگرام کی کلاسز جاری ہیں،،جہاں زیادہ تر غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے ایسے طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں جو مہنگی یونیورسٹیوں اور بیرون شہر موجود اعلی تعلیمی سہولیات سے استفادہ حاصل کرنے کی سکت،فرصت اور حیثیت نہیں رکھتے،،اب ہزاروں طلباء و طالبات کی مادر علمی کو آپ یونیورسٹی میں تبدیل کرکے فیسیں زیادہ کریں گے تو انکی حق تلفی تو ہوگی ناں؟ اسوقت گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ میں 5500 طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں،ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگڑھ اور پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن ضلع مظفرگڑھ کو تحفظات ہیں کہ اس سرکاری کالج میں انٹرمیڈیٹ کے طلباء و طالبات کی فیس 3500 روپے سالانہ ہے،،اس کالج کے یونیورسٹی بننے کے بعد غریب طلباء و طالبات سے یہ کم قیمت بنیادی تعلیمی سہولت بھی چھین لی جائیگی اور یونیورسٹی کی فیس 35 ہزار روپے مقرر کردی جائیگی جبکہ بی ایس پروگرام کی فیس 9000 سے 45 ہزار روپے کردی جائیگی جس سے غریب طلباء و طالبات کا شدید استحصال ہوگا،،اس حوالے سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مظفرگڑھ اور پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن مظفرگڑھ نے مذمتی قراردادیں بھی پاس کی ہیں،،،
فیصلہ سازوں سے سوال تو بنتا ہے؟؟ کہ ضلع مظفرگڑھ کے لیے اس اہم منصوبے کو آخرکار کیوں متنازع بنایا جارہا ہے،،؟؟برسوں سے یونیورسٹی کے قیام کے لیے تیاریاں کی جاتی رہیں،،کبھی کامرس کالج میں عارضی کلاسز لگانے ک بات ہوئی تو کبھی ڈیرہ غازی روڈ پر یونیورسٹی کے لیے جگہ مختص کیے جانے کے دعوے کیے گئے،،مگر اب سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کیے بغیر اچانک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرگڑھ کو یونیورسٹی میں بدلنے کا خیال اور اس حوالے سے بھرپور مزاحمت یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ یہ اہم تعلیمی منصوبہ بھی کم فہم لوگوں کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے اہل مظفرگڑھ کو ممکنہ طور پر وہ خوشیاں نہیں دے سکے گا جسکا ان سے وعدہ کیا گیا تھا..
ضلع مظفرگڑھ کے غریب باسی اور انکے محروم بچے برسوں سے اپنے اعلی تعلیمی حقوق کے حصول کے لیے صدا بلند کررہے ہیں،،خدارا ! انکے ساتھ مذاق کرنا بند کیجیئے،،آپ نے یونیورسٹی کے لیے ایک جگہ مختص کی،،اسی جگہ پر ہی ایک سٹیٹ آف دی آرٹ آئی ٹی اور AI کورسز کی تعلیم دینے والی یونیورسٹی تعمیر کیجیئے،،اہل مظفرگڑھ کسی روایتی تعلیمی یونیورسٹی کے ہرگز طلبگار نہیں،،ضلع مظفرگڑھ میں جنوبی پنجاب کی پہلی AI اور آئی ٹی یونیورسٹی بنائی جائے تاکہ اہل مظفرگڑھ کیساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے طلباء طالبات بھی جدید ترین اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے وسطی پنجاب کے طلباء وطالبات کے ہمقدم چل سکیں،،مظفرگڑھ کے ممبران اسمبلی سے بھی گزارش ہے کہ معاملے کے مزید متنازع بننے سے پہلے ہی معاملات کو سدھارنے اور ضلع مظفرگڑھ کی حقیقی تعمیر وترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں،،وگرنہ آپ سے پہلے بھی لوگ طاقت کے ایوانوں میں صرف اپنے مفادات کے لیے گھومتے رہے،،انھوں نے شہری حقوق کی بات کرنا گوارا نہ کی،،آج شہری ان لوگوں کا ذکر کرنا گوارا نہیں کرتے،،،
نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔