خون میں لتھڑی غیرت

school-admission-post-education-square-1748872581574

خون میں لتھڑی غیرت: بیٹیوں کی قبریں، سماج کا سکوت”
تحریر: شفیع اللہ خان

پھر ایک بیٹی مار دی گئی… اور معاشرہ خاموش تماشائی بن کر تکتا رہا۔”

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ ناسور بنتا جا رہا ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد کسی نہ کسی کونے سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سننے کو ملتی ہے کہ ایک اور لڑکی "غیرت” کے نام پر قتل کر دی گئی۔ وہ لڑکی جو کبھی اپنے باپ کی آنکھ کا تارا تھی، جو کبھی ماں کے خوابوں کی تعبیر سمجھی جاتی تھی، آج محض "روایت” کے ایک خونی دائرے میں بے دردی سے مار دی جاتی ہے۔

یہ کون سی غیرت ہے جس میں بیٹیاں دفن کر دی جاتی ہیں؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں عزت کا مطلب صرف عورت کی سانسوں سے جوڑا گیا ہے؟ یہ کیسا قانون ہے جو قاتل کو جواز دیتا ہے کہ وہ صرف رشتے کی بنیاد پر خون بہا دے اور چھوٹ جائے؟

قتل یا رسومات کا حصہ؟

پاکستانی معاشرے میں غیرت کے نام پر قتل کو بہت سے لوگ روایت، رسم یا ثقافتی اقدار کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جب کوئی لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرے، محبت کا اظہار کرے، یا گھر کی "مرضی” کے خلاف چلے، تو اسے "غیرت کا مسئلہ” بنا کر اس کی جان لے لی جاتی ہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ قاتل اکثر اس کے سگے باپ، بھائی، یا چچا ہوتے ہیں۔

عدالتی نظام، پولیس کی بے حسی، اور معاشرتی حمایت کا فقدان ان مظلوموں کو انصاف سے دور رکھتا ہے۔ اکثریت ان کیسز میں FIR بھی درج نہیں ہوتی، اور اگر ہو بھی جائے تو تھانوں میں صلح صفائی، جرگہ سسٹم، یا خاندانی دباؤ کے ذریعے معاملہ دبا دیا جاتا ہے۔

"غیرت” کا اصل مفہوم

اسلام اور کسی بھی مہذب معاشرے میں "غیرت” کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان کسی دوسرے کی جان لے لے۔ قرآن و حدیث میں غیرت کا مفہوم عزت، وقار، اور عفت کی حفاظت سے ہے، نہ کہ قتل و غارت سے۔ لیکن ہمارے ہاں اس مفہوم کو بگاڑ کر اسے ایک ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔

بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل اصل میں انا، جبر، اور پدرشاہی سوچ کا عکاس ہے۔ جب کوئی عورت اپنی مرضی سے زندگی کے فیصلے کرنے لگے، تو مرد کو یہ "غیرت” یاد آ جاتی ہے۔ درحقیقت یہ غیرت نہیں، خود ساختہ مردانگی کا زہر ہے۔

غیرت کے نام پر قتل: ایک بدنما داغ**
غیرت کے نام پر قتل (Honor Killing) ایک ایسی وحشیانہ رسم ہے جو پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں موجود ہے۔ یہ کوئی مذہبی حکم نہیں، بلکہ ایک قبائلی اور جاہلانہ روایت ہے جسے غلط طور پر مذہب سے جوڑ دیا گیا ہے۔ اسلام کسی بھی معصوم جان کے ناحق قتل کو حرام قرار دیتا ہے، پھر بھی ہمارے معاشرے میں یہ سلسلہ کیوں جاری ہے؟

### **اعداد و شمار: ایک المناک حقیقت**
پاکستان میں غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کے اعدادوشمار ہر سال خوفناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) کی رپورٹ کے مطابق:
– ہر سال **1000 سے زائد** خواتین غیرت کے نام پر قتل کی جاتی ہیں۔
– صرف **10%** کیسوں میں ہی مجرموں کو سزا ہوتی ہے۔
– زیادہ تر قتل **قریبی رشتہ داروں** کے ہاتھوں ہوتے ہیں۔

یہ اعداد و شمار صرف رجسٹرڈ کیسز ہیں، جبکہ بے شمار واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

میڈیا کا کردار

میڈیا کے بعض حصے ان واقعات کو سنسنی خیز انداز میں پیش کرتے ہیں لیکن ان کے پس منظر، سماجی عوامل، اور قانونی پہلوؤں پر سنجیدگی سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر کچھ آوازیں ضرور اٹھتی ہیں، جو اس ظلم کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن کیا یہ کافی ہے؟

اصل ضرورت یہ ہے کہ میڈیا ان مظلوم لڑکیوں کی آواز بنے، ان کی کہانیاں سنائے، اور حکومت، اداروں اور عوام کو جھنجھوڑے تاکہ یہ جرم ختم ہو سکے۔

مظلوموں کی چیخیں

کبھی زینب، کبھی قندیل، کبھی نور، کبھی کوئی اور۔۔۔ یہ فہرست طویل ہے، اور ہر نام کے ساتھ ایک المیہ جڑا ہوا ہے۔ ان لڑکیوں کے پاس خواب تھے، تعلیم حاصل کرنے کی خواہش تھی، محبت کرنے اور محبت پانے کی تمنا تھی۔ مگر انھیں بے دردی سے اس دنیا سے مٹا دیا گیا۔

ان کے والدین، اگر قاتل نہ بھی ہوں، تو اکثر خاموش تماشائی ہوتے ہیں۔ ان کی بے بسی، ان کا دکھ، ایک لمحے کے لیے بھی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟

تعلیم اور آگاہی: اسکولوں اور کالجوں میں صنفی مساوات اور انسانی حقوق پر مباحثے ہونے چاہئیں تاکہ نئی نسل میں شعور پیدا ہو۔

قانون کا سخت اطلاق: غیرت کے نام پر قتل کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا جائے۔ قصاص و دیت کے قانون کا ناجائز استعمال روکا جائے۔

سوشل ورک اور تھراپی: وہ مرد و خواتین جو معاشرتی دباؤ یا ذہنی الجھنوں کا شکار ہیں، ان کے لیے کونسلنگ اور سپورٹ گروپس بنائے جائیں تاکہ وہ جذباتی فیصلے نہ کریں۔

خواتین کی خود مختاری: عورت کو اپنے فیصلے خود کرنے کا حق دیا جائے، چاہے وہ تعلیم ہو، شادی ہو یا کیریئر کا انتخاب۔

اختتامیہ: کب بدلے گا یہ نظام؟

یہ مضمون ایک اور قتل کے بعد لکھا جا رہا ہے، اور ممکن ہے کہ کل کسی اور کی باری ہو۔ کب تک ہم بیٹیوں کو دفن کرتے رہیں گے؟ کب تک غیرت کے نام پر یہ بے غیرتی جاری رہے گی؟ کب تک معاشرہ خاموش تماشائی بنا رہے گا؟

وقت آ گیا ہے کہ ہم اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑیں۔ صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دینا کافی نہیں۔ ہمیں گھروں میں، کلاس رومز میں، مسجدوں میں، میڈیا میں، اور پارلیمان میں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ عورت کے خون سے عزت کا جھنڈا کیوں لہرایا جا رہا ہے؟

یہ مضمون نہ صرف ایک بیٹی کی دُکھی کہانی ہے، بلکہ ایک پکار ہے—ہم سب کے ضمیر کے لیے۔

اب بہت ہو گیا۔۔۔ کسی اور بیٹی کی لاش نہ اٹھے۔

نوٹ: امید نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ umeednews@gmail.com ای میل یا ہمارے Whatsapp 009233337898559 پر سینڈ کردیجیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے