آئینی عدالت ایم پی او: پشاور ہائیکورٹ کو گرفتاری کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا گیا

Court

اسلام آباد — وفاقی آئینی عدالت ایم پی او کے تحت ہونے والی گرفتاریوں کے معاملے پر اہم ترین فیصلہ دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کو اس قانون کے تحت گرفتاریوں کے مقدمات کی سماعت سے باضابطہ طور پر روک دیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ کے عبوری فیصلے خلاف خیبرپختونخوا حکومت کی دائر کردہ نظرثانی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔

"آپ ہمارا تحریری حکم نامہ پڑھ کر اپنے اعتراضات دائر کریں۔ فریقین عدالتی حکم دیکھ کر اپنی جواب دہندگان درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔"
— چیف جسٹس امین الدین خان، وفاقی آئینی عدالت

عدالتی کارروائی اور وکلا کے دلائل

سماعت کے دوران فریقین کے وکیل شاہ فیصل نے عدالت سے استدعا کی کہ کوئی بھی حکم امتناع جاری کرنے سے قبل ان کا موقف سنا جائے، کیونکہ صوبائی حکومت کے تینوں اعتراضات قانوناً برقرار نہیں رکھے جا سکتے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے وکیل کو عدالتی حکم کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کر دیے اور آئندہ سماعت تک جواب طلب کر لیا۔

آئینی عدالت کے فیصلے کے اہم ترین نکات

  • سماعت پر پابندی: پشاور ہائیکورٹ کو ایم پی او کی دفعات اور گرفتاریوں سے متعلق کسی بھی درخواست پر سماعت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

  • سابقہ احکامات کی معطلی: پشاور ہائیکورٹ کے مختلف بینچز کی جانب سے تھری ایم پی او گرفتاریوں کے خلاف جاری کیے گئے تمام عبوری احکامات معطل کر دیے گئے ہیں۔

  • پس منظر: پشاور ہائیکورٹ نے تھری ایم پی او کے تحت ہونے والی تمام گرفتاریوں کو روکنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کی تھی۔

اس عدالتی فیصلے کے بعد صوبے میں نقصِ امن کے تحت ہونے والی گرفتاریوں اور ان کے قانونی جواز کے تمام مقدمات اب آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ گئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے