ایران پر ممکنہ ایٹمی حملہ؛ کیا تابکاری لہر پاکستان کو متاثر کر سکتی ہے؟

iran pakistan_11

واشنگٹن/اسلام آباد — 04 نومبر، 2026 — مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے تناظر میں ایک نئے خطرے نے جنوبی ایشیا کے دفاعی حلقوں کو متنبہ کر دیا ہے۔ امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے انکشافات کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی ایٹمی حملے کے اثرات ملکی سرحدوں سے باہر نکل کر پاکستان تک پہنچ سکتے ہیں۔

سوال 1: ایران پر ایٹمی حملے کی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں؟

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف سخت قدم اٹھائیں۔ کارلسن کے مطابق، ایران کے پہاڑوں میں زمین دوز سرنگوں اور تنصیبات تک روایتی ہتھیاروں سے رسائی ناممکن ہے، اس لیے جوہری حملے کا آپشن زیرِ غور آ سکتا ہے۔

سوال 2: اس کے پاکستان اور افغانستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ کی جانب سے جاری کردہ نقشے اور سیمولیشن کے مطابق، اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مغربی اور شمالی ہوائیں تابکار ذرات کو مشرق کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں افغانستان کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مغربی علاقوں بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں تک تابکاری پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے