مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج تسلیم کرتا ہوں، اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں: ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن — امریکہ میں منعقدہ مڈ ٹرم الیکشن کے ابتدائی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے اور ابتدائی رجحانات کے مطابق ڈیموکریٹ امیدواروں کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی اہم نشستوں پر سبقت حاصل ہو رہی ہے۔ الیکشن کے ان موصولہ نتائج پر اپنا عکس العمل ظاہر کرتے ہوئے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے نتائج کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
"میں اس الیکشن میں بیلٹ پیپر پر خود موجود نہیں تھا، اگر میں خود ميدان میں ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے۔ تاہم میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔"
— ڈونلڈ ٹرمپ (امریکی مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج پر ردعمل)
امریکی قانون ساز ایوانوں میں طاقت کے توازن کی تبدیلی نے ملک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
امریکی کانگریس کے نتائج کا خلاصہ
کیا مڈ ٹرم الیکشن کے نتائج پر بین الاقوامی پالیسی اثر انداز ہوئی؟
سیاسی مبصرین کے مطابق اس مڈ ٹرم الیکشن میں امریکی عوام نے معاشی صورتحال، بین الاقوامی تنازعات اور بالخصوص مشرق وسطیٰ اور ایران سے متعلق جنگی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بیرون ملک عسکری اور دفاعی اخراجات پر بڑھتی ہوئی تشویش نے ووٹرز کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا کہ بین الاقوامی تنازعات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے انتخابی مہم اور ووٹرز کے رجحانات پر اثرات مرتب کیے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون اور ویٹو پاور کا استعمال
انتخابی نتائج پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ قانون سازی اور ملک کے اہم امور پر اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر امیگریشن اور سرحدوں کی صورتحال کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
قانون سازی پر موقوف حکمت عملی: "اگر ڈیموکریٹک پارٹی ملک کی بہتری کے لیے معقول تجویز پیش کرے گی تو ہم اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اگر ایوان سے احمقانہ قانون سازی بھیجی گئی تو میں اپنے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ویٹو کر دوں گا۔”
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کابینہ میں فوری تبدیلی کی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کابینہ میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی صورتحال کیا ہے؟
امریکی کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے انتخابی معرکہ انتہائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے:
-
ایوان نمائندگان: 435 رکنی ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔ ابتدائی گنتی میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہو رہی ہے۔
-
امریکی سینیٹ: 100 رکنی سینیٹ میں سادہ اکثریت کے لیے 51 نشستیں ضروری ہیں۔ اہم ریاستوں کے نتائج کے بعد سینیٹ میں بھی توازن بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
حتمی نتائج کے بعد امریکی حکومت کو نئی قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور غیر ملکی پالیسیوں کی تدوین میں قانون ساز ایوانوں کے ساتھ موافقت پیدا کرنا ہوگی۔