کرپشن کے الزامات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہرجانے کا لیگل نوٹس جاری
لاہور — 03 نومبر، 2026 — صوبائی دارالحکومت میں سیاسی کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر انہیں باضابطہ طور پر ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوا دیا.
اس سے قبل اٹک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اگر وفاقی وزیر کے پاس کرپشن کے کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائیں ورنہ انہیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔
مریم نواز اور وفاقی وزیر کے درمیان لفظی جنگ کی اصل وجہ کیا ہے؟
اٹک کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے چودہ سال پرانی حکومتوں کے موازنہ اور موجودہ انتظامیہ پر تنقید کا سخت جواب دیا تھا:
-
ثبوت پیش کرنے کا چیلنج: وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ "آپ ایک وفاقی وزیر ہیں، ہوش کے ناخن لیں اور بلاوجہ الزام تراشی نہ کریں۔ اگر آپ کے پاس کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں، بصورت دیگر آپ کو ہرجانے کا نوٹس بھجوایا جائے گا”۔
-
کارکردگی پر تنقید کا جواب: انہوں نے سابقہ دورِ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ بارش کے دوران گجرات گئیں تو سڑکوں پر اتنا پانی تھا کہ ان کی گاڑی تک ڈوب گئی۔
-
میرٹ کی بالادستی کا دعویٰ: مریم نواز نے واضح کیا کہ وہ پنجاب میں افسران کی تقرری صرف اور صرف میرٹ پر کرتی ہیں اور سفارش کلچر کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
چودہ سال پرانے دعوے پر وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کا کیا ردِعمل آیا؟
لیگل نوٹس موصول ہونے کے باوجود وفاقی وزیر چودھری سالک حسین نے اپنے موقف سے پچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے دوٹوک بات کی ہے:
1. بیان پر قائم رہنے کا اعلان
چودھری سالک حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے دیے گئے بیان پر مکمل طور پر قائم ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ انسان کو تکبر اور غرور سے بچائے۔
2. سچائی اور عاجزی پر زور
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب انسان کے پاس اختیار آتا ہے تو اسے عاجز رہنا چاہیے، انہوں نے سچائی کے ساتھ اپنی بات کہی ہے اور اس معاملے کو سیاسی تناظر کی بجائے انتظامی شفافیت سے دیکھا جانا چاہیے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اس قانونی نوٹس کے بعد وفاق اور صوبے کے تعلقات میں مزید گرما گرمی آ گئی ہے۔