سموگ کی شدید لہر کے باعث لاہور فضائی آلودگی کی فہرست میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر، ایئر کوالٹی انڈیکس 448 تک جا پہنچا

Polluted Lhr

لاہور — 01 نومبر، 2026 — صوبائی دارالحکومت میں شدید سموگ اور لاہور فضائی آلودگی کے باعث فضا انتہائی زہریلی اور مضرِ صحت ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے.

فضائی معیار کی عالمی ریٹنگ کے مطابق شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی اے کیو آئی چار سو اڑتالیس ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے انسانی صحت کے لیے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

شہر کے کن علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی؟

ماحولیاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شہر کے مختلف رہائشی اور تجارتی علاقوں میں آلودگی کی شرح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے:

  • اقبال ٹاؤن: آلودگی کی شرح سب سے زیادہ یعنی چھ سو سترہ ریکارڈ کی گئی۔

  • پیراگون سٹی: ایئر کوالٹی انڈیکس پانچ سو تیرہ درج کیا گیا۔

  • ماڈل ٹاؤن: فضائی آلودگی کی شرح چار سو ترپن تک جا پہنچی۔

  • چمن پارک اور برکی روڈ: بالترتیب چار سو تیس اور چار سو ستائیس اے کیو آئی ریکارڈ ہوا۔

  • ڈی ایچ اے فیز فائیو: آلودگی کی شرح تین سو چوبیس درج کی گئی۔

ماہرینِ ماحولیات کے مطابق ہوا کی رفتار جمود کا شکار ہونے، فصلوں کی باقیات جلانے اور گاڑیوں کے دھویں کی وجہ سے آلودہ ذرات زمین کے قریب فضا میں معلق ہو چکے ہیں۔

طبی ماہرین نے آلودگی سے بچاؤ کے لیے کیا تدابیر اور انتباہ جاری کیے ہیں؟

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لاہور فضائی آلودگی کی موجودہ لہر کے باعث شہری متعدد بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں:

1. امراض اور جسمانی اثرات

ڈاکٹروں کے مطابق آلودہ فضا کے باعث شہریوں میں آنکھوں میں شدبد جلن، ناک اور گلے کی تکالیف، سانس لینے میں دشواری، اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

2. متاثر ہونے والے حساس طبقات

طبی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بچے، وڈیرے یا بزرگ شہری، اور پہلے سے دل یا دمہ کے امراض میں مبتلا افراد اس آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

3. احتیاطی تدابیر پر عمل کی ہدایت

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے وقت فیس ماسک کا استعمال لازمی بنائیں، صبح اور شام کے وقت غیر ضروری سفر سے گریز کریں، اور کھلی فضا میں ورزش یا غیر ضروری سرگرمیوں سے مکمل پرہیز کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے