ضرورت پڑی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر دس منٹ میں حملہ کر سکتے ہیں، امریکی صدر دھمکی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان

trump-iran-israel-latest (1)

واشنگٹن — 01 نومبر، 2026 — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت خبردار کرتے ہوئے امریکی صدر دھمکی کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی ایک یا دو اہم جوہری تنصیبات اب بھی امریکی عسکری کارروائی کی زد میں ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں صرف دس منٹ کے مختصر وقت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے.

امریکی صدر نے اپنے بیان میں جہاں ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات پر روشنی ڈالی، وہاں تہران کی نیت اور معاہدوں کی پاسداری پر شدید عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

امریکی صدر دھمکی اور جوہری تنصیبات کے بارے میں کیا اہم باتیں کہی گئیں؟

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور سفارتی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح عسکری و سیاسی موقف اپنایا:

  • دس منٹ میں کارروائی کا دعویٰ: ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ایک یا دو اہم جوہری تنصیبات امریکی فوج کی رسائی اور کارروائی کی حد میں باقی ہیں، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان پر صرف دس منٹ کے اندر کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • مذاکرات کا درست سمت میں آگے بڑھنا: انہوں نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گفتگو درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران ایک نیا معاہدہ کرنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

  • جلد بازی سے گریز کا اعلان: امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن اس معاملے میں کسی قسم کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور تمام سیکیورٹی ضمانتوں کے بعد ہی حتمی قدم اٹھایا جائے گا۔

واشنگٹن کو تہران کے طرزِعمل پر عدم اعتماد کیوں ہے؟

اس امریکی صدر دھمکی اور سفارتی گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی ماضی کی سفارتی تاریخ پر سخت تنقید کی:

1. وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام

امریکی صدر نے ایرانی حکام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران کا ماضی یہ رہا ہے کہ وہ باضابطہ معاہدہ طے پانے کے بعد بھی اپنے کیے گئے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے اس پر مکمل بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔

2. حتمی پیش رفت پر کڑی نظر

انہوں نے کہا کہ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایرانی حکام واقعی کسی پائیدار اور قابلِ عمل معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں یا یہ صرف وقت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

عالمی عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف امریکی صدر کے اس تازہ بیان نے خطے میں عسکری کشیدگی کو ایک بار پھر بڑھا دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے