بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 20 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی

Mony pak

اسلام آباد — 29 اکتوبر، 2026 — پاکستان میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور بینکنگ قوانین کو جدید بنانے کے لیے بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی گئی ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو باوثوق ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔

ایف ایم یو (FMU) کو روزانہ کی رپورٹنگ کا نیا فریم ورک

نئے ضوابط کے تحت پاکستان میں کام کرنے والے تمام تجارتی بینکوں کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ روزانہ 30 لاکھ روپے سے زائد کے نقد لین دین (کیپٹل کیش ٹرانزیکشنز) کی تفصیلات فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (FMU) کو ارسال کریں۔

اس سے قبل یہ رپورٹنگ حد 20 لاکھ روپے مقرر تھی، جس میں اضافے کا مقصد بینکنگ کے روزمرہ کے امور کو سہولت دینا اور مالیاتی مانیٹرنگ کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو اختیارات اور ایس او پیز (SOPs) کی شرط

منی لانڈرنگ کے خاتمے اور غیر قانونی مالیاتی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت میں صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو خصوصی اختیارات دینے پر اتفاق ہوا ہے:

  • مشروط اختیارات: صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو انسدادِ منی لانڈرنگ قوانین کے تحت اختیارات کی منتقلی کو ایس او پیز (Standard Operating Procedures) کی باقاعدہ تکمیل سے مشروط کیا گیا ہے۔

  • صوبائی سطح پر یکسانیت: اس اقدام سے صوبائی سطح پر سرکاری فنڈز کے غبن اور مالیاتی جرائم کی تفتیش کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

ورچوئل اثاثہ جات کا انسدادِ منی لانڈرنگ (AML) نظام میں شمولیت کا فیصلہ

جدید دور کے مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی (NEC) نے ورچوئل اور ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی باقاعدہ طور پر انسدادِ منی لانڈرنگ کے قومی نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے تحت ‘ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی’ (VARA) کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مکمل قانونی اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں تاکہ کرپٹو اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے