لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
لاہور — 28 اکتوبر، 2026 — جسٹس محسن اختر کیانی استعفیٰ کی خبر نے اعلیٰ عدالتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر لاہور ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے اپنا باقاعدہ استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔
ذاتی وجوہات پر استعفیٰ اور قبل از وقت سبکدوشی
ذرائع کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنا استعفیٰ متعلقہ حکام کو بھیج دیا ہے۔ جج کی حیثیت سے ان کی آئینی مدتِ ملازمت 11 فروری 2032 تک تھی، تاہم انہوں نے وقت سے پہلے ہی عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
یہ پیش رفت ایک اہم انتظامی تبادلے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔ گزشتہ روز ہی جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تبادلہ کیا گیا تھا، جس کے اگلے ہی دن انہوں نے استعفیٰ دینے کا اقدام اٹھایا۔
جج کے حالیہ تبادلے اور عدالتی پس منظر
جسٹس محسن اختر کیانی عدلیہ کے اہم ججز میں شمار ہوتے ہیں اور رواں سال کے دوران ان کے تبادلوں کے حوالے سے اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی:
-
اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلہ: رواں سال اپریل میں جسٹس محسن اختر کیانی کو دیگر ججز کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل کیا گیا تھا۔
-
راولپنڈی بینچ میں تعیناتی: گزشتہ روز ان کا تبادلہ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں کیا گیا تھا۔
-
ریٹائرمنٹ کی تاریخ: ریکارڈ کے مطابق انہیں 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھا، تاہم ان کے مفاجاتی استعفے نے عدالتی اور قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ان کے استعفے کی باقاعدہ منظوری کا نوٹیفکیشن وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے ضابطے کی کارروائی کے بعد جاری کیا جائے گا۔