اسرائیل میں انتخابات کے ابتدائی نتائج: نیتن یاہو اتحاد کو برتری، اکثریت سے فی الحال محروم

444691_2624101_updates

یروشلم — 28 اکتوبر، 2026 — اسرائیل انتخابات نتائج نیتن یاہو کے تناظر میں گزشتہ روز ہونے والے عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی مرحلے میں وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو برتری حاصل ہو گئی ہے، تاہم وہ فی الحال حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

57 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو اتحاد کو آگے برتری

اسرائیلی الیکشن کمیشن اور مقامی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ روز ہونے والے عام انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بلا تعطل جاری ہے، اور اب تک 27 لاکھ سے زائد یعنی تقریباً 57 فیصد ووٹوں کی گنتی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

ابتدائی 57 فیصد گنتی کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق:

  • نیتن یاہو اتحاد: نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا اتحادی بلاک 56 نشستوں پر پیش رفت کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

  • آئزن کوٹ اپوزیشن اتحاد: سابق عسکری سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد 49 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔

جماعتوں کی انفرادی صورتحال اور 61 نشستوں کا ہدف

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی 120 نشستوں کے انفرادی تناسب پر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی فریق کو تنہا واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی:

  • لیکوڈ پارٹی: اتحاد سے ہٹ کر نیتن یاہو کی اپنی جماعت ‘لیکوڈ’ اکیلے 28 نشستوں پر آگے ہے۔

  • یاشر پارٹی: اپوزیشن اتحاد کی اہم جماعت ‘یاشر’ اکیلی 21 نشستوں پر لیڈ کر رہی ہے۔

  • عرب جماعتیں: اسرائیل کی عرب اقلیتی جماعتیں مجموعی طور پر 15 نشستوں پر برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

قانونی و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں حکومت قائم کرنے کے لیے 120 کے ایوان میں کم از کم 61 نشستوں کی حتمی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس وقت نیتن یاہو کا اتحاد اور آئزن کوٹ کا اپوزیشن بلاک، دونوں ہی 61 کے اس اہم ترین ہدف سے دور نظر آ رہے ہیں۔

حکومت سازی میں سیاسی پیچیدگیاں

فوجی اہلکاروں، سفارتکاروں اور مضافاتی علاقوں کے باقی ماندہ ووٹوں کی گنتی ابھی مکمل ہونا باقی ہے جس کے بعد ہی حتمی تصویر واضح ہو سکے گی۔

اگر گنتی مکمل ہونے پر بھی کوئی فریق چھوٹے گروپس یا عرب جماعتوں کو ساتھ ملا کر 61 نشستیں پوری کرنے میں ناکام رہا تو ملک میں ایک بار پھر حکومت سازی کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو نئے فیصلے تک نگران وزیراعظم کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے