ملک میں آبی ڈھانچے کی تعمیر و ترقی کے لیے 50 کھرب روپے کی سرمایہ کاری کا بڑا منصوبہ زیرِ غور

444684_1535180_updates

اسلام آباد — 28 اکتوبر، 2026 — پاکستان آبی ڈھانچہ سرمایہ کاری منصوبہ کے تحت ملک میں پانی کے استعمال کی کارکردگی کو 40 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک لے جانے کے لیے 50 کھرب روپے (تقریباً 18 ارب ڈالر) کا ایک جامع اور کثیر المیعاد منصوبہ زیرِ غور ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو ملنے والی رپورٹس میں ظاہر ہوئی ہیں۔

پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی تشویشناک صورتحال

پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں پنجاب بھر میں زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے لیول پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں سالانہ 0.5 سے 1 میٹر تک کی ریکارڈ کمی واقع ہو رہی ہے جو زراعت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

اس بحران پر قابو پانے کے لیے رپورٹ میں مندرجہ ذیل اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں:

  • سولر ٹیوب ویل سبسڈی پر شرائط: شمسی توانائی سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے دی جانے والی سرکاری سبسڈی کو زیرِ زمین پانی کے اندراج اور پائیدار حدود میں پانی نکالنے سے مشروط کیا جائے۔

  • شہری آلودہ پانی کا ری سائیکلنگ فریم ورک: فریم ورک میں یہ تجویز بھی شامل کی گئی ہے کہ شہری علاقوں کے کم از کم 25 فیصد آلودہ اور استعمال شدہ پانی کو دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جائے۔

پائیدار ترقی اور مستقبل کا لائحہ عمل

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ ملک میں غذائی تحفظ اور زراعت کو بچانے کے لیے زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو روکنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

مجوزہ 50 کھرب روپے کے اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف نہری نظام کے ضیاع کو روکا جا سکے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پانی کی بچت اور شہروں میں آلودہ پانی کی ری سائیکلنگ کو ممکن بنایا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے