وزیراعظم سے ملاقات کے بعد حافظ نعیم کا نومبر کے وسط میں اسلام آباد لانگ مارچ کا حتمی اعلان

444659_42158_updates

اسلام آباد — 27 اکتوبر، 2026 — حافظ نعیم اسلام آباد لانگ مارچ کے سلسلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے منگل کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں وفاقی دارالحکومت کی طرف حتمی لانگ مارچ کرے گی۔

وزیراعظم سے ملاقات اور لانگ مارچ کی حتمی تاریخ

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ اس بار اسلام آباد مارچ کو کسی صورت ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پٹرولیم پروڈکٹس پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مزید 7 سے 10 دن کا وقت مانگا ہے، تاہم جماعت اسلامی اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی شیڈول پر قائم رہے گی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "اب ہم اسلام آباد مارچ کو ملتوی نہیں کریں گے۔ حکومت مارچ کے آغاز سے پہلے پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کا ایک شفاف نظام بنائے، کیونکہ اس وقت لیوی کا تمام تر معاشی بوجھ ملک کے غریب اور مڈل کلاس طبقے پر پڑ رہا ہے۔"

پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوامی ریلیف کا مطالبہ

پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات سے آراستہ اہم نکات پیش کیے:

  • لیوی کا مکمل خاتمہ: امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقتی ریلیف پیکج سے عوام کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو رہا، لہٰذا حکومت پٹرولیم مصنوعات پر نافذ لیوی کو فوری ختم کرے۔

  • حکومتی موقف اور عوام کا حق: حکومت مرحلہ وار ریلیف دینے کی بات کر رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ لیوی کا بوجھ ختم کر کے پٹرول کی قیمتوں میں حقیقی کمی کی جائے۔

  • سڑکوں پر دھرنے کا انتباہ: انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مارچ شروع ہونے سے قبل ریلیف پیکج کا باضابطہ اعلان نہ کیا تو جماعت اسلامی کے کارکنان سڑکوں پر بیٹھ کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

عوام پر دباؤ اور حکومتی پالیسیوں پر تنقید

جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کی افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی سڑکوں پر نہ نکلتی تو حکومت پٹرول پر ریلیف دینے کے بجائے لیوی 80 روپے سے بڑھا کر 160 روپے کر دیتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسلسل عوامی دباؤ کی وجہ سے حکومت پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے اور اس دباؤ کو مزید بڑھایا جائے گا۔

فارم 47 کی حکومت سے مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ "جو حکومت میں ہوتا ہے بات اسی سے کی جاتی ہے، چاہے وہ فارم 47 کے ہوں یا 48 کے۔ اگر کوئی جہاز ہائی جیک کر لے تو بات اسی سے کرنی پڑتی ہے۔” انہوں نے اعادہ کیا کہ عوامی حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے