اسرائیل میں تاریخی عام انتخابات: وزیراعظم نیتن یاہو کی سیاسی بقا خطرے میں پڑ گئی
یروشلم — 27 اکتوبر، 2026 — اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو منگل کے روز منعقد ہونے والے عام انتخابات میں اپنی سیاسی بقا کے شدید ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ ملکی تاریخ کے اس انتہائی اہم اور حساس الیکشن کو نیتن یاہو کی حکومت کی قیادت پر ایک فیصلہ کن ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو حاصل ہونے والی بین الاقوامی خبروں سے معلوم ہوئی ہیں۔
دو حریفوں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ
اکتوبر 2023 کے حملوں، غازی، لبنان اور ایران کے ساتھ عسکری کشیدگی، اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے بعد منعقد ہونے والے ان انتخابات میں ووٹرز کا تناسب تاریخی نوعیت کا ہے۔
انتخابی سروے نیتن یاہو کی حکمراں ‘لیکوڈ’ پارٹی اور ان کی اتحادی دائیں بازو کی جماعتوں، اور سابق عسکری سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد ‘یاشار’ کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
انتخابی مہم کے اہم خدوخال:
-
بن یامین نیتن یاہو: اپنی جنگی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مضبوط اتحاد کو بنیادی منشور کے طور پر پیش کر رہے ہیں تاکہ وہ دائیں بازو کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکیں۔
-
گادی آئزن کوٹ: نیتن یاہو پر خوف، خوف اور سیاسی تقسیم پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی حکومت عالمی برادری اور امریکی انتظامیہ کے ساتھ شفاف اور مضبوط روابط قائم کرے گی۔
حکومت سازی کا چیلنج اور سیاسی پیچیدگیاں
اسرائیل کے 73 لاکھ سے زائد ووٹرز 120 نشستوں والی پارلیمنٹ (کنیست) کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی فریق کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل ہونا فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔
اگر نیتن یاہو کو دوبارہ حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے تو انہیں ایک بار پھر شدید قوم پرست رہنماؤں ایتامار بن گویر اور بتسلئیل سموٹریچ کے ساتھ اتحاد کرنا پڑے گا، جن کے متنازعہ بیانات پر عالمی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر کوئی بھی بلاک اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہا تو نیتن یاہو نئے انتخابات کے انعقاد تک نگران وزیراعظم کے طور پر اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔