بھارتی میڈیا پرائیویسی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جنگ تیز

large_Rajpath-delhi-shutterstock_1195751923.jpg_7647e1aad2

نئی دہلی — 27 اکتوبر، 2026 — بھارتی میڈیا پرائیویسی قانون کے معاملے پر سپریم کورٹ میں تاریخی اور آئینی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں ملک کے 21 سرکردہ میڈیا گروپس نے عدالتِ عظمیٰ کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کا یہ متنازعہ ڈیٹا قانون پریس کی آزادی پر کاری ضرب ہے اور اس سے آزاد نیوز رومز کے بند ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے—یہ تفصیلات امید نیوز کو موصول ہونے والی عدالتی رپورٹس کے مطابق ہیں۔

پرائیویسی قانون کے خلاف آئینی چیلنج اور سنسرشپ کے خدشات

منگل کے روز سپریم کورٹ میں ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (DNPA) کے زیرِ اہتمام دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران، سینئر وکیل مادھوی گورڈیا دیوان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خبروں کی اشاعت سے قبل متعلقہ افراد سے پیشگی اجازت نامہ (Consent) حاصل کرنے کی لازمی شرط دراصل قبل از وقت سنسرشپ (Pre-censorship) کی بدترین شکل ہے۔

عدالت میں دلائل پیش کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ اگر صحافیوں کو خبر شائع کرنے کے لیے ہر موضوع بننے والی شخصیت کی مرضی پر منحصر کر دیا گیا تو خبر کا بنیادی تصور ہی مٹ جائے گا، جس سے جمہوری معاشرے میں باوقار اور آزادانہ صحافت کا تسلسل برقرار رکھنا یکسر ناممکن ہو جائے گا۔ میڈیا ہاؤسز کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے برعکس بھارتی قوانین میں صحافتی خدمات اور عوامی مفاد کی تفتیش کے لیے کسی بھی قسم کا خصوصی استثنیٰ شامل نہیں کیا گیا۔

اہم قانونی تحفظات اور عدالتی پیش رفت

پبلشرز نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ حکومتی اداروں کو اطلاعات طلب کرنے کے لامحدود اختیارات دینے سے صحافیوں کے خفیہ ذرائع کا تحفظ شدید خطرے میں پڑ جائے گا اور ریاستی نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا۔

ابتدائی دلائل کو بغور سننے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی 17 نومبر تک ملتوی کر دی ہے، اور فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہریوں کے نجی حقوق کے تحفظ اور آزاد صحافت کے مابین ایک متوازن اور شفاف لائحہ عمل تیار کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے